
ہندوستان اور برطانیہ
ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ نافذ ہوتے ہی ہندوستان کی تقریباً 99 فیصد برآمدات کو برطانیہ کے بازار میں صفر ڈیوٹی رسائی کی سہولت ملنے لگی ہے۔ پہلے ہی دن 20 سے زیادہ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، آئی سی ڈی، ایس ای زیڈ اور کارخانوں سے 50 سے زیادہ برآمدی کھیپوں کو روانہ کیا گیا۔ یہ سامان جموں، چنئی، حیدرآباد، ممبئی، نوئیڈا، دہلی اور کوئمبٹور وغیرہ شہروں سے بھیجا گیا۔ پہلے دن 140 ملین (14 کروڑ) امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی برآمدات کی گئیں۔ الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، جواہرات اور زیورات سمیت متعدد مصنوعات کی کھیپیں مندرا، نہاوا شیوا، چنئی، ممبئی، کولکاتہ اور حیدرآباد سے برطانیہ کے لیے روانہ کی گئیں۔
جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے اور سماجی تحفظ کے معاہدے کے نفاذ پر نئی دہلی کے کامرس بلڈنگ میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سکریٹری تجارت راجیش اگروال نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ معاہدے سے 2030 تک باہمی تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ معاہدے کے نافذ ہونے کے پہلے ہی دن سے مختلف شعبوں کے برآمد کنندگان نے ڈیوٹی میں چھوٹ کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس معاہدے سے ملنے والے مواقع کو برآمد کنندگان اور کاروباریوں تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے لیے محکمہ تجارت ملک کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم منعقد کرے گا۔ وزارت برآمدات کے فروغ کی کونسلوں، صنعتی تنظیموں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر بیداری پھیلائے گی تاکہ ہر سطح کے کاروبار کم ڈیوٹی کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ کو اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔
برطانیہ کی جانب سے مارچ میں نافذ کیے گئے اسٹیل حفاظتی اقدامات ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ نافذ ہونے میں بڑی رکاوٹ بن گئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور کئی سطحوں پر ہونے والی بات چیت کے بعد اس مسئلے کا حل نکالا گیا اور تجارتی معاہدہ 15 جولائی سے نافذ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی اسٹیل انڈسٹری کو بڑا فائدہ ملا ہے۔ اب ہندوستانی برآمد کنندگان ہر سال 11 لاکھ ٹن سے زیادہ اسٹیل بغیر کسی امپورٹ ڈیوٹی کے برطانیہ بھیج سکیں گے۔ یہ سہولت ملک کے لیے مخصوص کوٹہ اور مجاز استعمال کی اسکیم کے تحت دستیاب ہوگی۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، جواہرات اور زیورات، سمندری مصنوعات اور پروسیس شدہ غذا جیسے زیادہ لیبر والے شعبوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ دوسری طرف ’فکی‘ کے صدر اننت گوئنکا نے کہا کہ یہ معاہدہ ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو مضبوط کرے گا۔ اس سے ملک کی اقتصادی ترقی، عالمی مسابقت اور بین الاقوامی بازاروں میں شراکت داری بڑھے گی۔
ہندوستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر لنڈی کیمرون نے تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کی جدید شراکت داری کا ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ کیمرون نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کی وہسکی پر امپورٹ ڈیوٹی 150 فیصد سے گھٹ کر 75 فیصد ہو گئی ہے اور مستقبل میں اسے مزید کم کیا جائے گا۔ برطانیہ میں بننے والی پریمیم کاروں پر بھی امپورٹ ڈیوٹی مرحلہ وار طریقے سے کم کی جائے گی۔ لندن کی میئر ڈیم سوسن لینگلی نے بھی اس تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔
جنوبی ایشیا کے لیے برطانیہ کے تجارتی کمشنر اور ہندوستان-برطانیہ ایف ٹی اے کے چیف مذاکرات کار رہے ہرجندر کانگ نے کہا کہ برطانیہ کی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں مثبت سوچ برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم بھی ہندوستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے حامی ہیں۔ برنہم وزیراعظم کے عہدے کے مضبوط دعویدار ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔