’نیٹ پیپر کی قیمت 5 لاکھ روپے‘، سی بی آئی نے کیے کچھ اہم انکشافات، 132 میں سے 111 سوالات ہو بہ ہو
سی بی آئی نے بتایا کہ 5 لاکھ روپے کی رقم این ٹی اے کے پینل میں شامل کیمسٹری کا پرچہ بنانے والے پی وی کلکرنی کو دی گئی تھی تاکہ امتحان سے پہلے ہی کیمسٹری کے سوالات حاصل کیے جا سکیں۔

’نیٹ (یو جی) 2026‘ کے پیپر لیک معاملہ پر سی بی آئی نے کچھ اہم انکشافات کیے ہیں۔ جانچ ایجنسی نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ لاتور واقع ایک کوچنگ سنٹر کے مالک شیوراج رگھوناتھ موٹیگاؤںکر نے امتحان کا سوالنامہ تیار کرنے والے پینل کے ایک رکن کو 5 لاکھ روپے کی رقم دی تھی۔ سی بی آئی نے موٹیگاؤںکر کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رقم این ٹی اے کے پینل میں شامل کیمسٹری کا پرچہ بنانے والے پی وی کلکرنی کو دی گئی تھی۔ رقم دینے کا مقصد یہ تھا کہ امتحان سے پہلے ہی کیمسٹری کے سوالات حاصل کیے جائیں۔
سی بی آئی کی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹیگاؤںکر نے دوسرے ملزمین کے ساتھ سازش رچی اور امتحان سے پہلے ہی کیمسٹری کے لیک شدہ سوالات حاصل کر لیے۔ پتہ چلا ہے کہ موٹیگاؤںکر کا بیٹا کلکرنی کی کیمسٹری ٹیوٹوریل کلاس میں جاتا تھا، جہاں یہ سوالات فراہم کیے گئے تھے۔ موٹیگاؤںکر نے کلکرنی کی کلاس سے ملنے والے ان سوالات کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس تیار کیے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے موٹیگاؤںکر کا موبائل فون ضبط کر لیا ہے۔ اس فون کی جانچ کے دوران اس میں 36 تصاویر ملی ہیں۔ ان تصاویر میں ہاتھ سے لکھے ہوئے کیمسٹری کے 132 سوالات تھے، جن میں سے 5 تصاویر نقل تھیں۔
سی بی آئی کے مطابق جب کیمسٹری کے 132 سوالات کا موازنہ کیا گیا تو ان میں سے 111 سوالات این ٹی اے کے نیٹ-2026 کے لیے تیار کیے گئے ماسٹر سوالنامہ سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے تھے۔ سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ موبائل سے برآمد ہونے والے نوٹس موٹیگاؤںکر ہی کی تحریر میں ہیں۔ فون کے ڈاٹا اور میٹا ڈاٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تصاویر 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ امتحان سے تقریباً 10 دن پہلے ہی کھینچی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ 3 مئی کو ملک بھر میں نیٹ (یو جی) امتحان منعقد کیا گیا تھا، لیکن پرچہ لیک کے الزامات اور شدید ہنگامے کے بعد این ٹی اے نے 12 مئی کو اس امتحان کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد 21 جون کو دوبارہ نیٹ امتحان منعقد کیا گیا۔ اس معاملے میں سی بی آئی اب تک 13 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ یہ تمام ملزمین فی الوقت عدالتی حراست میں جیل میں بند ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
