امریکہ میں مذہب پوچھ کر ہندوستانی شہری سہیل الدین پر جان لیوا حملہ، اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ جاری
عدالتی دستاویزوں کے مطابق ملزم نے پولیس کے سامنے قبول کر لیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کا قتل کرنے کی کوشش کی، کیوں کہ وہ مذہب اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔

امریکہ کے ’ویلی فیئر مال‘ میں ایک ہندوستانی مسلم پر چاقو سے جان لیوا حملہ کیا گیا۔ زخمی شخص کو فوری اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ’نیو یارک ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں جاری کیے گئے عدالتی دستاویزوں کے مطابق ملزم نے پولیس کے سامنے قبول کر لیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کا قتل کرنے کی کوشش کی، کیوں کہ وہ مذہب اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تشدد تب رکا، جب مال میں موجود لوگوں نے حملہ آور کو زمین پر پٹخ دیا اور اس کا ہتھیار چھین لیا۔ ملزم کی شناخت 48 سالہ پیٹر مائیکل لارسن کے طور پر ہوئی ہے۔
الزام ہے کہ لارسن نے پیر کی شام کو ایک مال کے اسٹال پر متاثرہ سید سہیل الدین سے کچھ بات کی۔ حملہ کرنے سے قبل اس نے مال میں کام کرنے والے سہیل سے پوچھا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتا ہے، اس کا نام کیا ہے اور کیا وہ مسلمان ہے۔ اس کے بعد لارسن نے فوراً چاقو نکالا اور اس پر حملہ شروع کر دیا۔ سہیل الدین کے باس اور قریبی خاندانی دوست عدنان محمد نے زخموں کی حد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’سہیل الدین کے پورے جسم پر زخم تھے۔ ایمرجنسی ٹیم ان کے حرکت قلب پر گہری نظر رکھ رہی ہے۔‘‘ عدنان محمد نے یہ بھی کہا کہ ’’سہیل الدین کا زندہ رہنا کرشمہ ہے۔ تشدد کے نتائج نے مقامی کمیونٹی کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘
’نیو یارک ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق عدنان محمد نے بتایا کہ حملے کے بعد آن لائن نفرت بھرے پیغام موصول ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں ایک باپ ہوں، اور اپنے بچوں کے لیے یہاں محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہوں۔ یہ سب کچھ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے بے حد خوفناک ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا احساس ہے، میں نے بہت خون دیکھا ہے۔‘‘ قریب کے لیڈس ہیٹ اسٹور میں کام کرنے والے سلواڈور مینڈیز نے بتایا کہ ’’حملہ آور کے ہاتھوں اور جسم پر (سہیل کا) خون لگا ہوا تھا اور اس نے دیکھنے والوں کو خوفناک نظروں سے دیکھا۔‘‘
لارسن کو پیر کی شام قتل کی کوشش کے الزام میں ’سالٹ لیک کاؤنٹی میٹرو جیل‘ میں بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی مذہبی لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بے حد افسوسناک ہے۔ ’یوٹا اسلامک سینٹر‘ کے امام شعیب الدین نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ برسوں میں یوٹا میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، دھمکیاں اور ہراساں کیے جانے کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ واقعہ حالات کو اور خراب کر رہا ہے۔ یہاں کی تاریخ کا یہ سب سے خوفناک حملہ ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
