برطانیہ نے ’آئی آر جی سی‘ کو سیکورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا، چراغ پا ایران نے برطانوی سفیر کو کیا طلب

برطانوی حکومت کا الزام ہے کہ حالیہ مہینوں میں پورے یورپ میں حملے کرنے کے لیے پراکسی گروپوں کو ہدایات دینے میں ایران کا کردار رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دوران ایران نے تہران میں برطانیہ کے سفیر کو طلب کیا ہے۔ یہ قدم لندن کی جانب سے برطانیہ کے ’کاؤنٹرنگ اسٹیٹ تھریٹس ایکٹ‘ کے تحت ’اسلامی انقلابی گارڈ کارپس‘ (آئی آر جی سی) کو نامزد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اس قدم کا جواب دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت برطانیہ کی جانب سے لندن میں ایران کے ناظم الامور علی نسیم فار کو طلب کیے جانے کے ایک دن بعد ہوئی۔ برطانوی حکومت کا الزام تھا کہ حالیہ مہینوں میں پورے یورپ میں حملے کرنے کے لیے پراکسی گروپوں کو ہدایات دینے میں ایران کا کردار رہا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے پیر کے روز آئی آر جی سی اور اس سے وابستہ ایک گروپ کو سیکورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ قدم ان نئے اختیارات کے تحت اٹھایا گیا ہے، جن کا مقصد غیر ملکی ممالک کو نگرانی اور تخریب کاری جیسی سرگرمیوں کے لیے پراکسیز کا استعمال کرنے سے روکنا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ امریکہ-ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر حالات تشویش ناک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق سمندری سیکورٹی اور شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد سیکورٹی کو لے کر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے باعث شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے امریکی فوج کی نگرانی والے منصوبے کا استعمال کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔

دراصل 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی فوج نے اس علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، جس کی وجہ سے بحری جہازوں کو ایران یا عمان کے ساحل کے قریب بنائے گئے 2 متبادل راستوں میں سے کسی ایک کا استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرہ کے حامی بھی ہیں، لیکن حملوں سے بھی باز نہیں آ رہے ہیں، جس کے سبب حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران بھی کسی حال میں خاموش نہیں رہنا چاہتا، اس لیے جوابی حملے مستقل کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر فکر کی لہر دوڑ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔