کون ہیں ڈینا کراری، جنہیں ایران نے ڈیڑھ سال قید میں رہنے کے بعد جنگ کے دوران کیا رہا
ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ ’’ڈینا کراری اب محفوظ ہیں اور ایران سے باہر ہیں۔‘‘ یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ نے ایران کے اس قدم کی تعریف کی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے ڈینا کراری نام کی ایک امریکی شہری کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے، جنہیں غلط طریقے سے حراست میں رکھا گیا تھا۔ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ ’’ڈینا کراری اب محفوظ ہیں اور ایران سے باہر ہیں۔‘‘ یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ نے ایران کے اس قدم کی تعریف کی ہے۔ شروعات میں ٹرمپ نے خاتون کی شناخت نہیں بتائی تھی، لیکن بعد میں ان کے وکیل نے ان کا نام ڈینا کراری بتایا۔
ڈینا کراری کے وکیل جیریڈ گینسر نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں اس معاملے کی تصدیق کی ہے، اور کہا ہے کہ ’’امریکی شہری ڈینا کراری کو دسمبر 2024 سے ایران میں رکھا گیا تھا۔ انہیں اب رہا کر دیا گیا ہے، اور وہ اب امریکہ لوٹ رہی ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میری کلائنٹ اور امریکی شہری ڈینا کراری، جو دسمبر 2024 میں ایران میں جھوٹے الزام کی وجہ سے پھنس گئی تھیں، اب آزاد ہیں۔‘‘ انہوں نے ان کی رہائی کو یقینی بنانے کا کریڈیٹ ٹرمپ کو دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ کی مسلسل کوششوں کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ ڈینا کراری اب محفوظ ہیں اور امریکہ لوٹ رہی ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ڈینا کراری ایک ایرانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ وہ ایک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے کام کرتی تھیں اور ساتھ ہی ایران میں بچوں کے لیے ایک چیریٹی بھی چلاتی تھیں۔
ڈینا کراری دسمبر 2024 میں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے شیراز گئی تھیں، لیکن حکام کے ذریعہ ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے اور حراست میں لے لیا گیا۔ ان پر جاسوسی اور دشمن ملک کے ساتھ تعلقات کے الزامات لگائے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ ایک امریکی افسر نے کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت ایران میں حراست میں لیے گئے کم از کم 6 امریکی شہریوں کے معاملے پر نظر رکھ رہی ہے۔ اس میں سے 2 کو غلط طریقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔‘‘ ڈینا کراری کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ٹرمپ ایران پر امریکی فوجی حملوں میں اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ’ایکسیوس‘ کے مطابق تہران نے پہلے بھی امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کیے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
