
علامتی تصویر
جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے دبئی گئے 14 مہاجر مزدور مبینہ طور پر تنخواہ نہ ملنے اور اضافی کام کرانے کے دباؤ کے سبب سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مزدوروں نے ریاستی حکومت سے محفوظ سودیشی واپسی کی اپیل کی ہے۔ یہ جانکاری ریاستی مہاجر کنٹرول سیل کی ٹیم لیڈر شکھا لاکڑا نے دی ہے۔ افسران کے مطابق یہ مزدور گریڈیہہ، ہزاری باغ اور بوکارو ضلعوں کے باشندہ ہیں۔ مزدوروں نے ایک ویڈیو بھیج کر اپنی حالت ظاہر کی ہے، جس میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ پرائیویٹ کمپنی نے انھیں 3 ماہ سے تنخواہ نہیں دی ہے اور اوور ٹائم کام کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس سے انھیں رہنے اور کھانے تک کا مسئلہ ہو رہا ہے۔
Published: undefined
شکھا لاکڑا کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے مزدوروں نے اپنی حالت زار کی ویڈیو سماجی کارکن سکندر علی کو بھیجی، جو مہاجر مزدوروں کے فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ ویڈیو میں مزدوروں نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ریاستی مہاجر کنٹرول سیل اب مزدوروں سے رابطہ کر ان کے دستاویزات کا سرٹیفکیشن کر رہا ہے۔ افسران نے بتایا کہ سرٹیفکیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہندوستانی سفارت خانہ اور یو اے ای حکومت کے افسران سے بات چیت شروع کی جائے گی تاکہ مزدوروں کی بہ حفاظت واپسی یقینی بنائی جا سکے۔ ریاستی حکومت اس سمت میں ضروری قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
Published: undefined
سماجی کارکن سکندر علی نے اس معاملہ میں مرکزی و ریاستی حکومتوں سے ٹھوس سفارتی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی بیرون ممالک میں مہاجر مزدوروں کے استحصال کا معاملہ سامنے آ چکا ہے اور کافی کوششوں کے بعد انھیں واپس بھی لایا گیا ہے، لیکن ذریعہ معاش تلاش کرتے ہوئے مجبوراً مزدور لگاتار بیرون ممالک جانے کو مجبور ہیں۔
Published: undefined
دبئی میں پھنسے مزدوروں میں روشن کمار اور اجئے کمار (دونوں گریڈیہہ واقع سَریا کے باشندے)، راجیش مہتو اور اجئے کمار (گریڈیہہ واقع بگودر کے باشندے)، دلیشور مہتو (بوکارو)، جاگیشور مہتو اور پھلندر مہتو (کھیداڈیہہ)، بیجناتھ مہتو اور دلیپ مہتو (سیریّا) سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔ جانکاری کے مطابق یہ سبھی مزدور اکتوبر 2025 میں ایک پرائیویٹ کمپنی کے لیے ٹرانسمیشن لائن منصوبہ پر کام کرنے دبئی گئے تھے۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ 3 ماہ سے انھیں تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined