بجٹ اجلاس: ڈوکلام اور چینی دراندازی پر راہل گاندھی کے بیان پر زبردست ہنگامہ، کارروائی کل تک ملتوی
ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی کو معمول کے مطابق چلانا ممکن نہ ہو سکا، جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی

ڈوکلام اور چینی دراندازی پر راہل گاندھی کے بیان پر زبردست ہنگامہ، کارروائی کل تک ملتوی
لوک سبھا میں ڈوکلام اور چینی دراندازی سے متعلق راہل گاندھی کے بیان پر زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر رہی۔ وقفے کے بعد جب لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسپیکر کی کرسی پر جگدمبیکا پال موجود تھے، تاہم اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے ارکان کے درمیان شور شرابہ بدستور جاری رہا۔
ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی کو معمول کے مطابق چلانا ممکن نہ ہو سکا، جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
راہل گاندھی کے خطاب پر حزب اقتدار نے پھر کیا ہنگامہ، کارروائی 4 بجے تک ملتوی
لوک سبھا میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا خطاب شروع کیا، جس پر حکمراں جماعت کے اراکین نے دوبارہ سخت اعتراض کیا۔ راہل گاندھی کے بولتے ہی ایوان کا ماحول ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گیا اور حزبِ اقتدار کی جانب سے شور شرابہ شروع ہو گیا۔
اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور راہل گاندھی کے خطاب پر باضابطہ اعتراض ظاہر کیا۔ دونوں وزرا نے کہا کہ قواعد کے تحت اس طرح کی باتوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایوان کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔
اعتراضات اور شور کے باعث لوک سبھا کی کارروائی ایک بار پھر متاثر ہوئی، جبکہ اسپیکر کی جانب سے اراکین کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قواعد کی پابندی کی ہدایت دی گئی۔ اسپیکر نے جب یہ کہا کہ قائد حزب اختلاف کو صرف اسی موضوع پر بولنا چاہئے جو صدر کے خطاب کا حصہ تھا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ قومی سلامتی پر بیان دینا چاہتے ہیں، جوکہ صدر کے خطاب کا حصہ تھی۔ شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان کارروائی کو ایک مرتبہ پھر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ہنگامہ آرائی کے دوران راہل گاندھی نے پھر شروع کیا خطاب، حزب اقتدار نے پھر کیا ہنگامہ
راہل گاندھی کے خطاب کے دوران ہنگامہ، ایوان کی کارروائی 3 بجے تک کے لیے ملتوی
صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر تشکر کی تحریک پر بحث کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی سے لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر ایک حقیقت پڑھنے سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اسے پڑھنے دیا جائے کیونکہ اس میں ڈوکلام میں کیا ہوا، اس کی مکمل تفصیل درج ہے، اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ بات جنرل نرونے نے لکھی ہے، جس پر ایک بار پھر ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر نرونے کو پابندی غلط لگتی تھی تو وہ عدالت کیوں نہیں گئے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ چینی ٹینک کیلاش رج پر آ رہے تھے، جس پر پھر شور ہوا۔ اسپیکر نے قواعد کی پابندی کی ہدایت دی، جبکہ راہل گاندھی نے کہا کہ سرحد پار پڑوسی ملک کے چار ٹینک حد میں داخل ہوئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے قواعد کی خلاف ورزی پر سخت اعتراض کیا اور اسپیکر نے کرسی کی بار بار نافرمانی پر وارننگ دی اور آخرکار ایوان کی کارروائی سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
صدر کے خطاب پر بحث کے دوران راہل گاندھی کا خطاب، حزب اقتدار کا ہنگامہ
لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اپنا خطاب شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی رکنِ پارلیمان تیجسوی سوریہ کی جانب سے کانگریس پر ہندوستانی ثقافت سے متعلق لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان الزامات کا جواب دیں گے۔ راہل گاندھی نے ڈوکلام کے معاملے پر فوجی افسر نرونے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بات شروع کی، جس پر ایوان میں اعتراضات سامنے آئے۔ اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ شائع ہی نہیں ہوئی۔ اسپیکر نے راہل گاندھی سے حوالہ کی توثیق کرنے کو کہا، جس کے بعد ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ راہل گاندھی نے جواب میں دعویٰ کیا کہ حکومت اس کتاب کو شائع نہیں ہونے دے رہی ہے، جبکہ راجناتھ سنگھ نے ڈوکلام اور چینی دراندازی سے متعلق بیانات کی معتبر حیثیت پر سوال اٹھائے۔
بجٹ اجلاس: لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پیش
پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کا آج چوتھا دن ہے۔ بجٹ اجلاس کا آغاز 29 جنوری کو صدرِ جمہوریہ کے خطاب سے ہوا تھا، دوسرے دن وزیرِ خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کیا جبکہ تیسرے دن، یکم فروری کو، ملک کا عام بجٹ لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ آج صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ لوک سبھا میں یہ تحریک مرکزی وزیر سربانند سونووال نے پیش کی۔ تشکر کی تحریک پر بحث کے لیے لوک سبھا میں 18 گھنٹے اور راجیہ سبھا میں 16 گھنٹے کا وقت طے کیا گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اس تحریک کو ایوان میں پیش کیا گیا، جبکہ پارٹی کی طرف سے اس کی حمایت بھی کی جائے گی۔ راجیہ سبھا میں وقفہ صفر مکمل ہو چکا ہے، جس کے دوران اراکین نے عوامی اہمیت کے مسائل اٹھائے، اس کے بعد ایوانِ بالا میں سوالوں کا وقفہ شروع ہو گیا ہے۔
شکریہ کی تحریک پر بحث: لوک سبھا سے آج راہل گاندھی کریں گے خطاب
صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر آج سے ہونے والی بحث کے دوران لوک سبھا میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے اس بحث کی شروعات قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کریں گے۔ اس وقت لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی بھی متوقع ہے۔ کانگریس کی جانب سے بحث میں حصہ لینے والے مقررین کی فہرست سامنے آ چکی ہے، جس میں راہل گاندھی کے علاوہ طارق انور، امریندر راجہ وڈنگ، اینٹو اینٹونی اور جیوتی منی کے نام شامل ہیں۔ ادھر بی جے پی کی طرف سے شکریہ کی تحریک کی حمایت کے لیے تیجسوی سوریہ کا نام طے ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔