قومی خبریں

ڈبلیو پی ایل 2023: فروری کے دوسرے عشرہ میں کھلاڑیوں کی نیلامی کا امکان، دہلی یا ممبئی میں لگے گا میلہ!

نیلامی کے لیے 11 فروری یا 13 فروری کی تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک نیلامی کے لیے جگہ کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے۔

آئی پی ایل نیلامی، تصویر آئی اے این ایس
آئی پی ایل نیلامی، تصویر آئی اے این ایس 

خواتین کرکٹ کھلاڑیوں پر مبنی آئی پی ایل، یعنی ڈبلیو پی ایل کی ٹیمیں خریدی جا چکی ہیں اور اب سبھی کو بے صبری سے انتظار ہے کھلاڑیوں کی نیلامی کا۔ ڈبلیو پی ایل کے پہلے سیزن کے لیے نیلامی رواں ماہ یعنی فروری کے دوسرے عشرہ میں ہو سکتی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق نیلامی کے لیے 11 فروری یا 13 فروری کی تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک نیلامی کے لیے جگہ کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دہلی یا ممبئی میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے لیے میلہ لگ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی بی سی سی آئی کوئی اعلان کرے گا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ بی سی سی آئی نے ڈبلیو پی ایل (وومن پریمیر لیگ) کے لیے نیلامی 6 فروری کو کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن پھر کچھ وجوہات کے سبب کسی آگے کی تاریخ میں کرنے کا فیصلہ ہوا۔ بی سی سی آئی نے ڈبلیو پی ایل کی پانچوں فرنچائزی کو نیلامی کے لیے تیار ہونے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا تھا اور اب سبھی نیلامی کی تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ڈبلیو پی ایل کا آغاز مارچ کے پہلے ہفتہ سے ہو سکتا ہے اس لیے نیلامی کا عمل بھی جلد کرنا ضروری ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ڈبلیو پی ایل کا پہلا سیزن مارچ کے آخر تک ختم بھی ہو جائے گا۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے ڈبلیو پی ایل کے لیے خاتون کرکٹ کھلاڑیوں کی نیلامی کی تاریخ میں بدلاؤ دو وجہ سے کی۔ پہلی وجہ تو یہ کہ ڈبلیو پی ایل فرنچائزی مالکان کے پاس یو اے ای میں چل رہے آئی ایل ٹی-20 اور جنوبی افریقہ میں چل رہے ایس اے 20 میں بھی کلب ہیں۔ آئی ایل ٹی-20 کا فائنل 11 فروری اور ایس اے 20 کا فائنل 12 فروری کو ہونا ہے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ڈبلیو پی ایل میں پانچوں ٹیموں میں سے تین کے پاس آئی پی ایل (مرد) میں ٹیمیں ہیں۔ ان میں ممبئی انڈینز، رائل چیلنجرس بنگلور اور دہلی کیپٹلز شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اڈانی گروپ اور کیپری گلوبل نے بھی ٹیمیں خریدی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined