قومی خبریں

دیوبند کی خواتین، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سراپا احتجاج

سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر آکر برقعہ نشیں خواتین نے پیدل مارچ کیا اور صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھیج کر شہریت ترمیمی قانون کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دیوبندمیں خواتین مظاہر ہ کرتی ہوئی۔فوٹو ایم افسر
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دیوبندمیں خواتین مظاہر ہ کرتی ہوئی۔فوٹو ایم افسر 
عارف عثمانی

دیوبند: شہریت ترمیمی قانون اور شہریت (س اے اے) کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ملک بھر کے ساتھ دیوبند میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور خواتین بھی اس تحریک میں مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔ بدھ کے روز سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر آکر برقعہ نشیں خواتین نے پیدل مارچ کیا اور صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھیج کر شہریت ترمیمی قانون کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔

Published: 25 Dec 2019, 9:37 PM IST

صبح تقریباً 11 بجے سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں برقعہ نشیں خواتین نے گھروں سے باہر نکل کر اسلامیہ بازار سے پر امن پیدل مارچ شروع کیا۔ مارچ میں شامل خواتین نے مختلف نعرے لکھی تختیاں ہاتھوں میں اٹھارکھی تھیں، انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور اس کالے قانون کو واپس لینے کامطالبہ کیا۔

Published: 25 Dec 2019, 9:37 PM IST

خواتین نے سی اے اے اور این آرسی کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے کہاکہ اس کالے قانون کے خلاف پورے ملک میں ہونے والے احتجاجوں اور لوگوں کے مطالبات پر مثبت انداز میں غوروفکر کیا جائے۔ خواتین دارالعلوم چوک اورمسجد رشید سے ہوتے ہوئے خانقاہ پولیس چوکی پہنچی اور انہوں نے وہاں موجود سی او چوب سنگھ کو صدر جمہوریہ کے نام میمورنڈم سونپا۔

Published: 25 Dec 2019, 9:37 PM IST

میمورینڈم کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ کیا گیا وہ فوری اس قانون کو منسوخ کریں۔ اس دوران یہ واضح نہیں ہوسکا کہ خواتین کا یہ مارچ کس کی قیادت میں نکلاگیا اور کس تنظیم کے تحت یہ مارچ نکلاگیا۔ کیونکہ کے بدھ کے روز پولیس انتظامیہ کے پاس دیوبند میں کسی طرح کے احتجاج کی اطلاع نہیں تھی، دیوبند سی او چوب سنگھ نے کہاکہ تقریباً پندرہ خواتین نے انہیں آج ایک میمورنڈم دیاہے، جو انگریزی زبان میں صدر جمہوریہ ہند کے نام ہے۔ انہوں نے بتایاکہ میمورنڈم میں خواتین نے کسی تنظیم یا خود کے نام تحریر نہیںکئے ہیں۔

Published: 25 Dec 2019, 9:37 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 25 Dec 2019, 9:37 PM IST