لبنان جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں پیش رفت، عباس عراقچی کا ایران کو بڑی اقتصادی راحت ملنے کا دعویٰ

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایران کو اقتصادی رعایتیں ملی ہیں، بعض منجمد اثاثے جاری ہوئے ہیں اور لبنان جنگ کے خاتمے کی سمت میں پیش رفت ہوئی ہے

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i

تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بعد ایران کو اہم اقتصادی رعایتیں حاصل ہوئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عاید بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جبکہ بیرون ملک منجمد کی گئی کچھ ایرانی اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقۂ کار پر کام جاری ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوا۔ یہ مذاکرات اٹھارہ جون کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی چودہ نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منعقد کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں کی سفارتی سرگرمیوں کے بعد طے پانے والے اس معاہدے میں دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تیس روز کے اندر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی اور ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔


رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے تین سو ارب ڈالر کا ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا جبکہ جنگی حالات کے باعث محدود ہونے والی آبنائے ہرمز کی سرگرمیوں کو بھی بحال کیا جائے گا۔

سید عباس عراقچی کے مطابق آئندہ ساٹھ دن کے اندر ایک جامع معاہدے پر مزید بات چیت کی جائے گی، جس میں ایرانی جوہری پروگرام، تمام پابندیوں کے مکمل خاتمے اور خطے میں مستقل امن کے قیام جیسے معاملات شامل ہوں گے۔

فارس نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات سے متعلق بعض رکاوٹیں کم کی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی میں نرمی آئی ہے اور ایران کے لیے ایک وسیع تعمیر نو اور ترقیاتی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اس عمل کا پہلا حقیقی امتحان لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قائم کیے گئے رابطہ نظام کی کامیابی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔