ٹی ایم سی کے باغی گروپ نے ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کو عہدے سے کیا معطل

اولوبیریا ایسٹ کے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی قیادت والے باغی گروپ نے ابھیشیک بنرجی کو پارٹی سے معطل کرنے اور ممتا بنرجی کو پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی، تصویر بشکریہ&nbsp;@AITCofficial</p></div>
i

ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں جاری سیاسی بحران کے درمیان پیر کو پارٹی میں بغاوت نے بڑا موڑ لیا ہے۔ اولوبیریا ایسٹ کے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی قیادت والے باغی گروپ نے ابھیشیک بنرجی کو پارٹی سے معطل کرنے اور ممتا بنرجی کو پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ باغی خیمے کی اہم میٹنگ میں لیا گیا، جس میں خود کو ’اصلی ترنمول کانگریس‘ بتانے والے لیڈران نے نئی تنظیمی کمیٹی کی تشکیل کے فوراً بعد ایک قرارداد منظور کر ابھیشیک بنرجی کی معطلی کا اعلان کیا۔

باغی گروپ نے سینئر رکن اسمبلی اروپ رائے کو نئی تشکیل شدہ تنظیمی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ رتبرت گروپ کی یہ میٹنگ نیو ٹاؤن کے ایک ہوٹل میں ہوئی جس میں باغی اراکین اسمبلی اور کولکاتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) سمیت 3 اضلاع کے 70 کونسلرز نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں ہاوڑہ سنٹرل سے رکن اسمبلی اروپ رائے کو ممتا بنرجی کی جگہ پارٹی کا نیا چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔


باغی گروپ کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے اندر آئینی بحران کو لے کر یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے رتبرت بنرجی نے کہا کہ ’’پارٹی آئین کے مطابق ہر 3 سال میں قومی مجلس عاملہ کی تشکیل ضروری ہے اور آخری بار یہ کمیٹی فروری 2022 میں بنائی گئی تھی۔ عہدیداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی دوبارہ تشکیل نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے پارٹی کی قومی قیادت کی تنظیم نو کا عمل شروع کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘‘

تازہ ترین واقعات کے بعد ترنمول کانگریس اب 3 گروپ میں بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ پہلا گروپ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس ہے، دوسرا رتبرت بنرجی کا گروپ ہے جو اب بنگال اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جبکہ تیسرا گروپ کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں تقریباً 2 درجن لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ کا ہے، جنہوں نے ’نیشنل سٹیزنز پارٹی‘ (این سی پی) نامی چھوٹی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے پارلیمنٹ میں این ڈی اے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔


اس کے ساتھ ہی ٹی ایم سی کے اندر جاری اندرونی خلفشار مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی میں بغاوت مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔ پہلے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے ایک بڑے طبقے کے الگ ہونے کے بعد اب کولکاتہ اور کئی اضلاع کے سابق کونسلرز بھی باغی گروپ کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد رتبرت بنرجی اور ٹی ایم سی کے باغی اراکین اسمبلی نے نیو ٹاؤن میں واقع ایک ہوٹل میں سابق کونسلرز کے ساتھ الگ سے میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں عاصم بوس، جوئے بسواس اور تارک سنگھ سمیت کئی لیڈران موجود تھے۔ میٹنگ میں رتبرت بنرجی، سندیپن ساہا، فرہاد حکیم، جاوید خان اور اروپ رائے بھی شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ کولکاتہ، مرشد آباد، بہرام پور اور دیگر اضلاع کے سابق کونسلرز بھی اس میٹنگ میں موجود رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔