امریکہ نے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں 60 دن کے لیے کیں معطل، مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کے بعد امریکہ اور ایران نے اہم امور پر پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کے تیل کی پیداوار اور برآمدات پر عائد پابندیاں 60 دن کے لیے معطل کر دی ہیں

واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے تیل کی پیداوار، سپلائی اور فروخت پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر 60 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مثبت مذاکرات کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایک عارضی عمومی لائسنس جاری کیا ہے، جس کے تحت آئندہ 60 دن تک ایرانی تیل کی پیداوار، سپلائی اور فروخت کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنوں کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران ان نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا جو مستقبل میں حتمی معاہدے کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق گفتگو میں لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی تیل کی برآمدات جیسے معاملات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بعد ایرانی وفد وطن کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق 14 نکات پر مشتمل ایک یادداشتِ مفاہمت زیر غور ہے، جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرے گا۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران جوہری پروگرام کا معاملہ براہ راست زیر بحث نہیں آیا تھا اور بین الاقوامی نگرانی سے متعلق امریکی دعووں پر ایران کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے ایسا طریقہ کار بنانا چاہتا ہے جس سے فائدہ ایرانی عوام کو پہنچے، نہ کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے عناصر کو۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مجوزہ منصوبے کے تحت بحال ہونے والے اثاثوں سے امریکی سویابین، مکئی اور گیہوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کی تجویز جیرڈ کشنر نے دی ہے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
