قومی خبریں

کیا جموں و کشمیر کو جلد ملنے والا ہے مکمل ریاست کا درجہ؟ مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کے بیان نے جگائی نئی امید

اگست 2019 میں ہندوستانی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ریاست کی بحالی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ارجن رام میگھوال / ویڈیو گریب</p></div>

ارجن رام میگھوال / ویڈیو گریب

 

مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے منگل (17 فروری) کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بارے میں جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ میگھوال نے سری نگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے سے متعلق معاملہ بہت حساس ہے۔ مرکزی حکومت اس پر بہت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے بار بار کہا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا اور یہ پورا عمل مکمل طور سے آئینی طریقہ کار کے تحت کام کیا جائے گا۔

Published: undefined

ارجن رام میگھوال نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق ضرور ملے گا۔ ہمارے وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا جو بھی حق ہے وہ دیا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بارے میں بہت جلد کوئی فیصلہ سنیں گے۔ واضح رہے کہ اگست 2019 میں ہندوستانی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ریاست کی بحالی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔

Published: undefined

مرکزی وزیر کے تازہ بیان نے سیاسی حلقوں اور جموں و کشمیر کے لوگوں میں نئی امید جگا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ریاست کی بحالی کا فیصلہ جلد ہوتا ہے تو یہ گزشتہ کئی سالوں میں ہونے والی بڑی سیاسی پیش رفت ہوگی۔ مرکزی حکومت نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کا فیصلہ اسمبلی انتخاب کے بعد لیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ آج کے بیان میں مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کے ذریعہ وقت کی حد واضح نہیں کی گئی ہے، پھر بھی ’بہت جلد‘ جیسے الفاظ سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

Published: undefined

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مرکز نے اس بارے میں کوئی بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ اگر آنے والے دنوں یا ہفتوں میں کوئی باضابطہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ 2019 کے بعد سب سے بڑی آئینی تبدیلی ہوگی۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں کئی سیاحتی مقامات کو پھر سے کھولنے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی باشندوں کو راحت ملے گی اور سیاحت پر منحصر ذریعۂ معاش کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ عمر عبد اللہ نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ان کی ملاقات مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ہوئی تھی، اس دوران انہوں نے گزشتہ سال بند کیے گئے سیاحتی مقامات کو کھولنے کی درخواست کی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined