قومی خبریں

خامنہ ای کے بعد کس کے ہاتھ میں ہوگی ایران کی باگ ڈور؟ سپریم لیڈر کی دوڑ میں سامنے آئے 2 بڑے نام

ایران کا آئین ’ولایتِ فقیہ‘ کے نظریے پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق ملک کا سپریم لیڈر کوئی عام سیاستدان نہیں، بلکہ بلند مذہبی مرتبہ رکھنے والا ایک بڑا اسلامی عالم ہونا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای (فائل تصویر)</p></div>

ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای (فائل تصویر)

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کا دعویٰ کیا۔ بعد میں ایران کے سرکاری چینل ’پریس ٹی و‘ نے بھی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی۔ امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مغربی ایشیا کی سیاست کو نئے موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خامنہ ای کے بعد ایران کا اقتدار کون سنبھالے گا؟

Published: undefined

ایران کا آئین ’ولایتِ فقیہ‘ کے نظریے پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق ملک کا سپریم لیڈر کوئی عام سیاستدان نہیں، بلکہ بلند مذہبی مرتبہ رکھنے والا ایک بڑا اسلامی عالم ہونا چاہیے۔ خامنہ ای نے اپنی زندگی میں کسی جانشین کا باضابطہ نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ ایسی صورت میں اقتدار کی منتقلی کا عمل مکمل طور پر آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ہوگا۔

Published: undefined

سیاسی حلقوں میں 2 اہم نام زیر بحث ہیں: ایک مجتبیٰ خامنہ ای (خامنہ ای کے بیٹے) اور دوسرے حسن خمینی (ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے)۔ حالانکہ ان ناموں پر حتمی فیصلے کا ابھی انتظار اور اس کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی ’ماہرین کی کونسل‘ کرتی ہے۔ یہ کونسل سینئر مذہبی اسکالرز پر مشتمل ہوتی ہے اور وہی باضابطہ طور پر نئے سپریم لیڈر کا اعلان کرتی ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پس پردہ اصل اثر و رسوخ ان طاقتور گروہوں کا ہوتا ہے، جو ملک کے فوجی اور مذہبی اداروں پر اثر رکھتے ہیں۔

Published: undefined

ایران کی سب سے طاقتور فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) براہ راست سپریم لیڈر کو جوابدہ ہوتی ہے اور منتخب حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر کام کرتی ہے۔ نیوز ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں آئی آر جی سی کے کمانڈر محمد پاکپور بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں، تو طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلامی جمہوریہ کی سمت طے کرنے میں آئی آر جی سی کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔

Published: undefined

ایران کے موجودہ صدر مسعود پزیشکیان کو نسبتاً اعتدال پسند مانا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ حملوں میں وہ بھی نشانے پر رہے ہیں اور ان کی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ ایسے حالات میں انتظامیہ کا کردار محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ سیکورٹی اداروں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

Published: undefined

خامنہ ای کے بعد ایران صرف نئے مذہبی رہنما کا انتخاب نہیں کر رہا، بلکہ اپنی سیاسی سمت طے کرنے کے موڑ پر کھڑا ہے۔

  • کیا اقتدار خاندانی دائرے میں رہے گا؟

  • کیا مذہبی حلقہ کوئی متفقہ چہرہ سامنے لائے گا؟

  • یا پھر آئی آر جی سی کا کردار پہلے سے زیادہ بااثر ہو جائے گا؟

ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔ فی الحال اتنا طے ہے کہ ایران کی سیاست ایک حساس دور سے گزر رہی ہے، جہاں ہر فیصلہ علاقائی اور عالمی مساواتوں پر اثر انداز ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined