’ہم نے اپنے سپریم لیڈر کو کھو دیا ہے‘، ایرانی فوج نے خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی، ملک میں 40 روزہ عوامی سوگ کا اعلان
’پریس ٹی وی‘ نے لکھا کہ ’’اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔‘‘

ٹرمپ اور اسرائیل کے دعووں کے بعد اب ایرانی فوج، سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ اور مرکزی نیوز چینل ’پریس ٹی وی‘ نے باضابطہ طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ جس وقت یہ حملہ ہوا، اس وقت خامنہ ای اپنے دفتر میں موجود تھے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے ایک بیان میں خامنہ ای کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تنظیم نے ان کی موت کو ایک ’باعزت شہادت‘ قرار دیتے ہوئے ان کے راستے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بیان میں امریکہ اور ’صیہونی حکومت‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت کارروائی اور جوابی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عوام سے قومی اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
اس سے قبل پریس ٹی وی نے لکھا کہ ’’اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔‘‘ خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران میں 40 روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’تاریخ کے ظالم ترین افراد میں سے ایک اب نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے اسے ایران کے لوگوں کے لیے آزادی کا ایک بڑا موقع قرار دیا تھا۔
اسی دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اشارہ دیا تھا کہ خامنہ ای کا پورا ٹھکانہ زمیں بوس کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ’سرجیکل اسٹرائیک‘ تھی جسے جدید ترین ہتھیاروں اور درست معلومات کی بنیاد پر انجام دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ پریس ٹی وی کی تصدیق کے بعد اب ایران میں اقتدار کی جانشینی کو لے کر بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ تہران کی سڑکوں پر سناٹا اور دہشت کا ماحول ہے، جبکہ سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ اور فوجی کمانڈروں نے اس بزدلانہ حملے کا بدلہ لینے کی بات کہی ہے، جس سے پوری دنیا میں ایٹمی جنگ یا تیسری عالمی جنگ کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔