جے این یو میں پولیس اور طلباء کا تصادم؛ 26 تاریخ کے لانگ مارچ کے بعد 14 گرفتاریاں، ’آئیسا‘ نے عائد کیے سنگین الزامات
اے آئی ایس اے کے سابق صدردھننجے نے کہا کہ مارچ کے دوران پولیس نے احتجاجی طلباء اورطالبات کو بے دردی سے مارا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور خاص طور پر بابا صاحب کی تصویروں والے پوسٹر لئے طلباء کو نشانہ بنایا

جواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے وائس چانسلر سنتی سری دھولیپوڈی پنڈت کے مبینہ ذات پات پر مبنی بیانات کے خلاف چند روز قبل یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے بطوراحتجاج وزارت تعلیم کی طرف ’لانگ مارچ‘ کی کوشش کے دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپ کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ طلباء یو جی سی کے ایکویٹی (اینٹی ڈسکریمینیشن) ضوابط کے نفاذ، مجوزہ ’روہت ویمولا ایکٹ‘ کے نفاذ اور وائس چانسلر کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔ اس دوران جے این یو کے مین گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جہاں مارچ کو روکنے کے لیے کئی سطحوں پر بندش کی گئی تھی۔ احتجاجی طلباء کا الزام ہے کہ پولیس نے لاٹھی چارج کیا، طالبات کو گھسیٹا اور بربریت کا مظاہرہ کیا۔
اس واقعہ کی شروعات 26 فروری کو تقریباً 3:20 بجے دن میں ہوئی جب طلباء مین گیٹ سے باہر نکلنے لگے۔ پولیس نے انہیں نارتھ گیٹ پر روکا اور واپس کیمپس میں دھکیل دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مرد پولیس اہلکاروں کو خواتین طالبات کو گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ پولیس کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں طالب علموں کو افسران سے دھکا مکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
شام تک کچھ طلباء کو وسنت کنج نارتھ اور کاپسہیڑا تھانے لے جایا گیا اور وسنت کنج نارتھ پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 221، 121(1)، 132 اور 3(5) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے پاس مارچ کی اجازت نہیں تھی اس لیے کارروائی ضروری تھی۔ وہیں جے این یو ایس یو نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔ واقعہ کے اگلے روز(27 فروری) کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے گرفتار کئے گئے 14 طلباء کو 25،000 روپے کے مچلکے پر ضمانت دی اور پولیس کی عدالتی تحویل کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ تاہم عدالت نے طلباء کے مستقل پتے کی جانچ کی شرط رکھی جس پر طلباء تنظیموں نے اعتراض کیا۔
اس دوران جے این یو ایس یو کے سابق صدر اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے رہنما دھننجے نے ’اے بی پی نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پولیس کی کارروائی کو ’انتقامی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ کس طرح 26 تاریخ کو طالب علموں کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا، حراست میں لیا گیا اور مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔ پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں دہلی پولیس کی دلیل اتنی کمزور تھی کہ عدالت نے اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
دھننجے نے مزید بتایا کہ کئی طلباء شدید زخمی ہیں۔ پولیس نے انہیں بے دردی سے مارا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور خاص طور پر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویروں والے پوسٹر لئے طلباء کو نشانہ بنایا۔ یہ واضح ہے کہ دہلی پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں نہیں بلکہ بدلہ لینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے جیل کے حالات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جیل میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، نہ ادویات ہیں، نہ علاج معالجہ۔ یہاں تک کہ چادریں اور کپڑے بھی فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔