
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
رواں ہفتہ پارلیمنٹ اجلاس انتہائی ہنگامہ خیز رہا، جس میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے لیڈران آمنے سامنے دکھائی دیے۔ خاص طور سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایوانِ زیریں میں جس طرح سابق فوجی چیف جنرل نروَنے کی کتاب سے اقتباس پیش کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے اور حکمراں طبقہ ہنگامہ کرتی دکھائی دی، اُس نے ملک کو حیران کر دیا۔ اس واقعہ کو کانگریس نے اپنے نیوز لیٹر میں اہم مقام عطا کیا ہے۔ کانگریس کے ذریعہ جاری تازہ نیوز لیٹر میں نروَنے کی غیر مطبوعہ کتاب کا اقتباس لوک سبھا میں نہیں پڑھنے دیے جانے کو غیر جمہوری قرار دیا گیا ہے۔
Published: undefined
اس نیوزلیٹر کے جاری ہونے کے بعد راہل گاندھی کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا ہے کہ ’’میرے پیارے ملکی باشندو اور ساتھیو، اس ہفتہ پارلیمنٹ میں کچھ ایسا ہوا جو نہ صرف حیرت انگیز تھا، بلکہ پوری طرح غیر جمہوری بھی تھا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’قائد حزب اختلاف کے طور پر جب میں نے ایک سنگین قومی سیکورٹی بحران کے دوران وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کا سوال اٹھایا، تو مجھے بولنے ہی نہیں دیا گیا۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروَنے کی کتاب میں سامنے آئی باتوں نے ایک سچائی سامنے لائی ہے۔ ایک ایسی سچائی جب ہندوستان پر چین دباؤ بنا رہا تھا اور وزیر اعظم ہماری فوج کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں بحث روکے جانے کے پیچھے کی وجہ اسی سچائی کو قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’(اس سچائی کو چھپانے کے لیے) پارلیمنٹ کو خاموش کیا گیا۔ یہ حکومت خوف سے چلتی ہے۔ جوابدہی کے خوف سے اور سچائی کے خوف سے۔ ہندوستان کو جواب چاہیے، اور اسے ایسی پارلیمنٹ چاہیے جہاں آزادی سے بولا جا سکے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر تازہ نیوز لیٹر جاری ہونے کی جانکاری دی ہے۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اس ہفتہ پارلیمنٹ میں کچھ ایسا ہوا، جو پوری طرح غیر جمہوری تھا۔ حزب اختلاف کے قائد کے طور پر جب راہل گاندھی نے ایک سنگین قومی سیکورٹی بحران کے دوران وزیر اعظم مودی کے ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے پر سوال اٹھایا، تو انھیں بولنے ہی نہیں دیا گیا۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی کو سابق فوجی چیف جنرل نروَنے کی کتاب ہاتھ میں لیے ہوئے تصویر بھی پیش کی گئی ہے، جس کا استعمال نیوز لیٹر کے کور پر استعمال ہوا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined