ویڈیو گریب
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے اور آخری مرحلے میں شام 5 بجے تک تقریباً 89.99 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے، جو ایک اعلیٰ ٹرن آؤٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔
ادھر سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ نے کہا ہے کہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی 500 کمپنیاں پولنگ کے بعد بھی اگلے احکامات تک مغربی بنگال میں تعینات رہیں گی، تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ پہلے سے جاری احکامات کے مطابق ہے اور فورسز ریاست میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹنگ تیزی سے ریکارڈ سطح کی طرف بڑھ رہی ہے اور سہ پہر 3 بجے تک 78.68 فیصد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ اس مرحلے میں بعض مقامات پر تشدد اور ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ووٹروں کا جوش کم نہیں ہوا۔
کنال گھوش، جو بیلے گھاٹا اسمبلی حلقے سے ٹی ایم سی کے امیدوار ہیں، نے کہا کہ عوام وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت میں کھڑی ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی بدانتظامی کے باعث ووٹنگ کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بزرگ ووٹروں کی بڑی تعداد پولنگ مراکز پر پہنچ رہی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے بھی انتظامی خامیوں پر سوال اٹھائے ہیں، جس کے باعث انتخابی عمل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
مرشد آباد کی بہرام پور سیٹ سے کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ممتا بنرجی کو اس بار اپنی جیت کا یقین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ ممتا بنرجی اپنے انتخابی حلقے میں ایک بوتھ سے دوسرے بوتھ پر جا رہی ہیں۔ یہ غیر معمولی بات ہے۔ وہ بے چین نظر آ رہی ہیں۔ انہیں اپنی جیت کا یقین نہیں ہے۔
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کے تحت 142 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے دوپہر ایک بجے تک ہونے والی پولنگ کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، دوپہر ایک بجے تک 61.11 فیصد ووٹنگ ہو چکی ہے۔
ترنمول رکن پارلیمنٹ سایانی گھوش نے جنوبی کولکاتہ کے کھستگیر پرائمری اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا بوتھ تھانہ علاقے میں آتا ہے اور ہمیشہ پرامن رہا ہے۔ جنوبی کولکاتہ اور پورے کولکاتہ میں پولنگ عام طور پر پرامن ہوتی ہے، اس لیے عام طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن آج ہم نے کچھ غیر معمولی دیکھا، اندر ووٹرس سے زیادہ پولیس اہلکار موجود ہیں۔ اگر 10 لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں تو ان کے سامنے تقریباً 20 پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔ اس سے عام لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر آپ کو اتنا بھروسہ ہے کہ بنگال آپ کا ہے، تو پھر ایسی جنگ جیسی صورتحال کیوں پیدا کر رہے ہیں؟ بنگال بھی ہندوستان کا ایک حصہ ہے، جہاں دیگر جگہوں کی طرح انتخاب ہو رہے ہیں، لیکن یہاں کا فرق آپ کی مایوسی اور گھبراہٹ کو صاف طور پر ظاہر کرتا ہے۔‘‘
مشرقی بردھوان کے کیتوگرام اسمبلی حلقے میں ایک پولنگ بوتھ کے قریب سے بم برآمد ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگال کے انتخابات میں پہلی بار این آئی اے کو تعینات کیا گیا ہے۔
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سوربھ گانگولی نے بیہالا میں واقع ورشا ششی بھوشن جن کلیان ودیا پیٹھ میں قائم پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اپنا ووٹ ڈال دیا ہے... دیکھتے ہیں کہ ووٹنگ کا تناسب کتنا رہتا ہے۔ پچھلے مرحلے میں یہ 90 فیصد سے زیادہ تھا۔ شام تک صورتحال واضح ہو جائے گی۔‘‘
ہردوئی میں گنگا ایکسپریس وے کا افتتاح کرنے پہنچے پی ایم نریندر مودی نے بنگال انتخاب میں جاری ووٹنگ کے حوالے سے کہا کہ بنگال میں اس وقت دوسرے مرحلے کی پولنگ ہو رہی ہے۔ بنگال میں پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی بھاری ووٹنگ ہو رہی ہے۔ لوگ ووٹ دینے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکل رہے ہیں۔ لوگ بے خوف ہو کر ووٹ دے رہے ہیں۔
جنوبی 24 پرگنہ کے بھانگڑ علاقے میں ٹی ایم سی اور آئی ایس ایف کے کارکنان کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس کے بعد مرکزی افواج نے لاٹھی چارج کر کے انہیں وہاں سے بھگا دیا۔ یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب وہاں نوشاد صدیقی پہنچے انہیں دیکھتے ہی ٹی ایم سی کے کارکنوں نے ’جے بنگلہ‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے دوسرے اور آخری مرحلے کی نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں عوام میں پولنگ کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی 4 گھنٹوں یعنی صبح 11 بجے تک ہی مجموعی طور پر 40 فیصد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ اگر ضلع وار تفصیلات پر نظر ڈالیں تو اب تک مشرقی بردھوان میں سب سے زیادہ 44.50 فیصد پولنگ ہوئی ہے، جبکہ جنوبی کولکاتہ میں سب سے کم 36.78 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دیگر اضلاع میں ہوگلی 43.12 فیصد کے ساتھ نمایاں ہے، نادیہ میں 40.34 فیصد، ہاوڑہ میں 39.45 فیصد، شمالی 24 پرگنہ میں 38.43 فیصد، شمالی کولکتہ میں 38.39 فیصد اور جنوبی 24 پرگنہ میں 37.92 فیصد رائے دہی ہوئی ہے۔
جنوبی 24 پرگنہ کی بھانگڑ نشست سے ٹی ایم سی امیدوار شوکت ملا نے کہا کہ ’’این آئی اے کی ٹیم ہمیں ڈرانے کے لیے یہاں آئی ہے۔ ہم نے الیکشن کے دن کبھی این آئی اے، سی بی آئی یا ای ڈی کو نہیں دیکھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ ہم ایسا دیکھ رہے ہیں۔ ہم ڈریں گے نہیں۔‘‘
بی جے پی امیدوار نے فالٹا میں ای وی ایم میں خرابی کا الزام لگایا اور کہا کہ ای وی ایم بٹن کام نہیں کر رہا ہے۔
مغربی بنگال کے بارانگر اسمبلی حلقے میں ہلکی بارش ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
ٹی ایم سی لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نریندر، آپ نے اعلان کیا تھا کہ بنگال کی تمام 294 نشستوں پر آپ ہی امیدوار ہیں۔ بڑی بڑی باتیں چھوڑیے۔ یہ چیلنج قبول کیجیے۔ 4 مئی کو جب ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی بنگال جیتیں گے، تو وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیجیے۔ ہے دم؟‘‘
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ بارا نگر کے وارڈ نمبر 72 میں ای وی ایم میں خرابی کی وجہ سے ووٹنگ روک دی گئی ہے۔ ناراض ووٹرس کا الزام ہے کہ مشین کو 5 بار بدلا گیا، لیکن پھر بھی ووٹنگ کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔
ایک ووٹر متھو گرائی نے کہا کہ ’’ہم صبح 7 بجے سے لائن میں کھڑے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم خراب ہو گئی ہے۔ اب ہم واپس جا رہے ہیں۔‘‘
ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے بنگال انتخابات میں بی جے پی پر مرکزی افواج کی ضرورت سے زیادہ تعیناتی کا الزام لگایا ہے۔ اب ابھیشیک بنرجی نے کہا ہے کہ ’آئی این ایس‘ کے جنگی جہاز اور رافیل طیارے، جنہیں تعینات کرنا باقی ہے، آپ وہ بھی کر دیں؛ جو کچھ بھی آپ کو بنگلہ دیش اور پاکستان کے خلاف کرنا ہے، وہ آپ بنگال کے لوگوں کے خلاف کر رہے ہیں۔ا
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بنگال میں 30 لاکھ ووٹرس کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک سال پرانی پیشگوئی کو دوہراتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی 2021 سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرے گی۔ ٹی ایم سی چوتھی بار حکومت بنا رہی ہے۔ میں آپ سے 4 مئی کو ملوں گا۔
ممتا بنرجی نے صبح سے ہی اپنے انتخابی حلقہ بھبانی پور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر انتخابی عمل میں مداخلت اور گڑبڑ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسی دوران بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری بھی بھبانی پور پہنچ گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی لیڈر اسی پولنگ اسٹیشن کے باہر موجود ہیں جہاں ممتا بنرجی صبح سے موجود ہیں۔
بنگال میں لوگوں نے ووٹنگ کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ صبح 9 بجے تک 18.39 فیصد ووٹ ہو چکی ہے۔
ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران تشدد کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زبردستی انتخابی دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ شروع ہونے کے بعد بدھ کو ریاست کے رائے دہندگان سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں اور ترقی پسند اقدار اور ترقی کے حق میں ووٹ دیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 29 Apr 2026, 9:42 AM IST