بینک گھوٹالہ معاملہ: ای ڈی کی انل امبانی گروپ سے وابستہ اداروں پر کارروائی، اہم دستاویزات ضبط
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بینک گھوٹالہ معاملے میں انل امبانی گروپ سے وابستہ اداروں پر کارروائی کرتے ہوئے اہم دستاویزات، جائیداد سے متعلق ریکارڈ اور مالی لین دین کے شواہد ضبط کیے ہیں

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بینک گھوٹالہ معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں انل امبانی گروپ سے وابستہ اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ای کمپلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے ایک ڈائریکٹر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ ایجنسی کے مطابق اس کارروائی کے دوران اہم دستاویزات، غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ اور دیگر ایسے شواہد ضبط کیے گئے ہیں، جو مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشیل فنانس لمیٹڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہزاروں کروڑ روپے کے عوامی سرمایہ کو شیل کمپنیوں اور گروپ سے وابستہ دیگر اداروں کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام کمپنیاں انل امبانی گروپ کے کنٹرول یا انتظام کے تحت کام کر رہی تھیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کو بینکاری کے معمول کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مناسب جانچ پڑتال، ضروری دستاویزی کارروائی اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیے بغیر بڑے کارپوریٹ قرضے منظور کیے گئے۔ ایجنسی کے مطابق جن کمپنیوں کو قرض فراہم کیا گیا، ان میں سے متعدد مالی طور پر کمزور تھیں، ان کی حقیقی کاروباری سرگرمیاں محدود تھیں اور ان کے پاس قرض کی ادائیگی کی مناسب صلاحیت بھی موجود نہیں تھی۔
بیان کے مطابق شیل کمپنیوں کے ڈائریکٹروں میں انل امبانی گروپ کے ملازمین یا قریبی ساتھی شامل تھے، جو گروپ کی اعلیٰ انتظامیہ کی ہدایات پر کام کرتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کمپنیوں کے بینک کھاتوں اور مالی ریکارڈ کا انتظام ریلائنس انفراسٹرکچر لمیٹڈ، ریلائنس پاور لمیٹڈ اور ریلائنس کیپیٹل لمیٹڈ کے افسران کے ذریعے کیا جاتا تھا، جس سے ان کمپنیوں پر گروپ کے مؤثر کنٹرول کے شواہد ملے ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ اس معاملے میں بارہ جون دو ہزار چھبیس کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت خصوصی عدالت میں استغاثہ کی شکایت بھی داخل کی جا چکی ہے۔ ایجنسی کے مطابق اب تک پندرہ ہزار پانچ سو اڑتالیس کروڑ روپے کی غیر قانونی آمدنی کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ چار ہزار پانچ سو دس کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے تین ہزار نو سو چھبیس کروڑ روپے مالیت کی ضبطی کی متعلقہ مجاز اتھارٹی بھی توثیق کر چکی ہے۔
اس سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 15 اپریل دو ہزار چھبیس کو ریلائنس کیپیٹل لمیٹڈ کے سابق ڈائریکٹر امیتابھ جھنجھنوالا اور سابق چیف مالیاتی افسر امیت باپنا کو گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ دونوں نے ریلائنس ہوم فائنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشیل فائنانس لمیٹڈ سے رقوم کے انحراف میں فعال کردار ادا کیا۔ دونوں ملزمان اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا ہے کہ یہ تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے مختلف سرکاری اور نجی بینکوں کی شکایات پر درج مقدمات کی بنیاد پر جاری ہیں اور معاملے کی مزید تفتیش بدستور جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
