رام مندر چندہ تنازعہ: ایف آئی آر درج نہ ہونے پر فیض آباد بار ایسوسی ایشن برہم، احتجاجی تحریک کی وارننگ
رام مندر چندہ معاملے میں وکلا کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہ ہونے پر فیض آباد بار ایسوسی ایشن نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے
لکھنؤ: رام مندر میں چندے کی چوری کے معاملے میں وکلا کی جانب سے دی گئی شکایت پر اب تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کے خلاف فیض آباد بار ایسوسی ایشن نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی شکایت میں بیان کیے گئے حقائق اور مندر ٹرسٹ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں نمایاں فرق ہے، اس لیے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کراتے ہوئے نئی ایف آئی آر درج کی جائے۔
فیض آباد بار ایسوسی ایشن کی کور کمیٹی کے رکن اور وکیل سوربھ مشرا نے کہا کہ ان کی شکایت کی نقول تمام متعلقہ حکام کو فراہم کی گئی تھیں، لیکن اس کے باوجود اس پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی درخواست میں جن نکات اور حقائق کا ذکر کیا گیا تھا، وہ مندر ٹرسٹ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر سے مختلف ہیں، جس کے باعث معاملے کے کئی اہم پہلو سامنے نہیں آ سکے۔
سوربھ مشرا نے کہا کہ پہلے برآمد کی گئی رقم کا معاملہ بھی ان کی شکایت میں شامل تھا، لیکن جس نوعیت کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا، حقیقت میں ایسی کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق چمپت رائے، گوپال داس اور انل مشرا سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھائے گئے تھے، تاہم ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ اب تک عوامی نہیں کی گئی، لیکن اسی رپورٹ کی بنیاد پر مندر ٹرسٹ نے ایف آئی آر درج کرا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی جانب سے اب جو نکات سامنے رکھے جا رہے ہیں، وہ دراصل انہی معاملات سے متعلق ہیں جن کا ذکر ان کی شکایت میں پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان افراد کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ وہ کسی کو پہلے سے قصوروار قرار نہیں دے رہے، لیکن جب الزامات موجود ہیں تو ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور مکمل جانچ کرائی جانی چاہیے۔ اگر جانچ میں وہ بے قصور ثابت ہوں تو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، لیکن جانچ سے پہلے انہیں تحفظ دینا مناسب نہیں۔
دوسری جانب وکیل سنجیو دوبے نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے بھی شکایت دی گئی تھی، مگر نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی سرکاری اطلاع دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معاملے میں مسلسل نئے نام شامل کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی چندہ پیٹی سے رقم برآمد ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بار ایسوسی ایشن اس معاملے میں نئی ایف آئی آر درج کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
سنجیو دوبے نے خبردار کیا کہ اگر ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہوئی تو بائیس جولائی سے پہلے بار ایسوسی ایشن کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور جہاں مندر ٹرسٹ کی میٹنگ ہوگی وہاں جا کر احتجاج کیا جائے گا۔
فیض آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر کالیکا مشرا نے کہا کہ دو جولائی کو رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس کے بعد ایسوسی ایشن کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اپنی جانچ مکمل کر کے رپورٹ تیار کی، جس میں متعدد افراد پر سوالات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت دینے کے باوجود اب تک مقدمہ درج نہ ہونا وکلا میں شدید ناراضی کا سبب ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر جلد ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو وکلا احتجاجی تحریک شروع کریں گے، پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کریں گے، رام جنم بھومی تھانے جا کر ایف آئی آر کی نقل طلب کریں گے اور ضرورت پڑنے پر آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
