قومی خبریں

سادھوؤں پر گاؤں والوں نے کردیا حملہ، بچہ چوری کا شبہ، پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچائی جان

پولیس نے کافی مشقت کے بعد حالات پر قابو پاتے ہوئے تمام پانچوں سادھوؤں کو اپنی حفاظت میں لے لیا جس کے بعد ان کی جان بچ سکی۔ دوران تفتیش ان کے پاس سے بچہ چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو جھارکھنڈ پولیس ’ایکس‘ ہینڈل</p></div>

فوٹو جھارکھنڈ پولیس ’ایکس‘ ہینڈل

 
ali

جھارکھنڈ کے بوکارو ضلع میں بچہ چوری کی افواہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔ یہاں چاس تھانہ علاقے کے بانسی ڈیہ گاؤں میں مقامی لوگوں نے شک کی بنیاد پر 5 سادھوؤں کی وحشیانہ پٹائی کردی۔ اس دوران پولیس موقع پر پہنچی اور کسی طرح سادھوؤں کو ہجوم سے بچا یا اور تھانے لے گئی۔ اطلاعات کے مطابق 5 سادھو یوپی رجسٹریشن نمبر کی ایک گاڑی میں بھیکشا مانگنے پہنچے تھے۔ گاؤں والوں نے انہیں اجنبی سمجھ کر شبہ ظاہر کیا۔ اسی دوران کسی نے بچہ چوری کی افواہ پھیلا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں میں بھیڑ جمع ہوگئی اور حالات کشیدہ ہو گئے۔ شبہ ہونے پرلوگوں نے سادھوؤں کو گھیر لیا اور مارپیٹ شروع کردی۔

Published: undefined

حالات خراب ہوتے دیکھ کر کسی نے چاس تھانے کو اطلاع دی۔ پولیس کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ اس وقت مشتعل بھیڑ کے ذریعہ سادھوؤں کو پیٹا جا رہا تھا۔ کافی مشقت کے بعد پولیس نے بھیڑکو منتشر کیا اور متاثرہ سادھوؤں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔ انہیں تھانے لا کر پوچھ گچھ کی گئی۔

Published: undefined

پولیس کی تفتیش میں بچہ چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تمام سادھو اتر پردیش کے رہنے والے تھے اور بھیکشا مانگنے کے لیے اس علاقے میں آئے تھے۔ چاس کے ایس ڈی پی او پروین سنگھ نے بتایا کہ افواہ کی بنیاد پرحملہ کیا گیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک معلومات کی اطلاع پہلے پولیس کو دیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

Published: undefined

پولیس نے کافی مشقت کے بعد حالات پر قابو پاتے ہوئے تمام پانچوں سادھوؤں کو اپنی حفاظت میں لے لیا جس کے بعد ان کی جان بچ سکی۔ دوران تفتیش ان کے پاس سے بچہ چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ایس ڈی پی او پروین سنگھ نے بتایا کہ تفتیش میں بچہ چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ متاثرین سے ضروری تفتیش کے بعد انہیں آزاد کردیا جائے گا۔

Published: undefined

چاس کے ایس ڈی پی او پروین سنگھ نے بتایا کہ ویڈیو کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ سادھو ہیں اور گھومتے ہوئے بانسی ڈیہ پہنچے تھے۔ افواہوں کی وجہ سے لوگوں نے انہیں بچہ چور سمجھ کر ان کی پٹائی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات سے ضلع کی شبیہہ خراب ہوتی ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا سنگین جرم ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined