قومی خبریں

’سی اے پی ایف بل 2026‘ پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ، سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ

کانگریس رکن پارلیمنٹ دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ یہ نیم فوجی دستہ مخالف بل ہے، یہ کریکشن نہیں ڈسٹرکشن ہے، عدالتی حکم کو پلٹنے کی کوشش ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ اسے واپس لیں یا سلیکٹ کمیٹی کو بھیجیں۔

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس

 

’مرکزی مسلح پولیس فورس (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026‘ پر راجیہ سبھا میں بحث ہو رہی ہے۔ اپوزیشن اس بل کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے واپس لینے یا پھر سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس تعلق سے آج راجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈران دگ وجئے سنگھ، سنجے سنگھ اور رام گوپال یادو وغیرہ نے اس بل کے خلاف پرزور انداز میں اپنی بات رکھی۔

Published: undefined

کانگریس رکن پارلیمنٹ دگ وجئے سنگھ نے ایوان بالا میں مذکورہ بل پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ یہ نیم فوجی دستہ مخالف بل ہے، یہ کریکشن نہیں ڈسٹرکشن ہے، عدالتی حکم کو پلٹنے کی کوشش ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ اسے واپس لیں یا سلیکٹ کمیٹی کو بھیجیں۔ عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس کے حق میں نہیں ہوں، اس لیے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔‘‘

Published: undefined

سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے ’سی اے پی ایف بل 2026‘ معاملہ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر داخلہ کہتے ہیں چن چن کر دراندازوں کو نکال رہے ہیں، لیکن یہ بل تو خسارے کا سودا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آپ نے سپریم کورٹ کی نہیں مانی تو ہماری کیا مانیں گے۔ لیکن سچ یہی ہے کہ یہ بل عوام مخالف ہے۔ اسے واپس لے لیں، نہیں تو سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیں۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ ’سی اے پی ایف بل 2026‘ کا مقصد سی آر پی ایف، بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی کے لیے تقرری، پروموشن اور خدمات کے شرائط کو منظم کرنا ہے۔ یہ بل اعلیٰ عہدوں پر 50 فیصد آئی پی ایس ڈیپوٹیشن کو بنائے رکھتے ہوئے کیڈر افسران کے لیے پروموشن کے مواقع اور ضابطے طے کرتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بل آپریشنل ضرورتوں کو پورا کرے گا اور پروموشن میں شفافیت لائے گا۔ حالانکہ کیڈر افسران کی فکر ہے کہ یہ ان کے کیریئر کے مواقع کو محدود کر سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined