
بہار کی سیاست میں بڑی اتھل پتھل ہو گئی ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل کو ایک ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں کہ این ڈی کی حلیف پارٹی کے سربراہ اپیندر کشواہا نے ایک بڑا فیصہ لے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ دراصل راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے سربراہ اپیندر کشواہا نے اپنی پارٹی کی ریاستی اکائی سمیت تمام سیل اور ضلعی اکائیوں کو فوری اثر سے تحلیل کر دیا ہے۔ راجیہ سبھا رکن اور آر ایل ایم کے صدر اپیندر کشواہا کی صدارت میں ہوئی کور کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ نتیش کابینہ میں بیٹے کو وزیر بنانے کے بعد سے ہی پارٹی لیڈران نے استعفیٰ دینا شروع کر دیا تھا۔ کچھ اضلاع کی تو پوری کمیٹی نے ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے بعد اتوار (30 نومبر) کو اپیندر کشواہا نے کور کمیٹی کی میٹنگ بلائی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد اپیندر کشواہا نے پارٹی کی ریاستی اکائی سمیت تمام سیل اور ضلعی اکائیوں کو فوری اثر سے تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تنظیم میں نئی توانائی پیدا کرنے اور نئے ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔
Published: undefined
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور ترجمان فضل امام ملک نے بتایا کہ فی الحال تنظیم کو بہتر طور پر چلانے کے لیے 5 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کی ذمہ داری پارٹی کے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں کے انعقاد سے لے کر عبوری تنظیمی انتظام تک ہوگی۔ کمیٹی کا کنویز مدن چودھری کو مقرر کیا گیا ہے۔ سبھاش چندرونشی، پرشانت پنکج، ہمانشو پٹیل اور آر کے سنہا کو ممبر نامزد کیا گیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) نے حالیہ اختتام پذیر اسمبلی انتخاب میں این ڈی اے کے اتحادی کے طور پر 6 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا، پارٹی کو 4 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اپیندر کشواہا کی اہلیہ اسنیہ لتا سہسرام سیٹ سے انتخاب جیت کر اسمبلی پہنچی ہیں۔ جبکہ ان کے بیٹے دیپک پرکاش کو اسمبلی انتخاب میں حصہ لیے بغیر ہی پنچایتی راج کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے ہی پارٹی میں اندرونی طور پر بغاوت شروع ہو گئی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined