
ویڈیو گریب
اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آئے دلت خاندان سے جڑے سنگین معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے ریاستی حکومت پر سخت حملہ بول دیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہ صرف اس واقعے میں انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جانے والے لیڈران کو بھی زبردستی روک دیا گیا۔ کانگریس کے مطابق اس رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سچ سامنے آنے سے بچنا چاہتی ہے۔
Published: undefined
کانگریس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس ایس سی ڈپارٹمنٹ کے صدر ایڈووکیٹ راجندر پال، رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری اور اتر پردیش کے شریک انچارج پردیپ نروال متاثرہ دلت خاندان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے تھے، مگر بی جے پی حکومت نے پولیس تعینات کر کے انہیں راستے میں ہی روک دیا اور خاندان تک پہنچنے نہیں دیا گیا۔ کانگریس نے اس اقدام کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سچ کو دبانے اور معاملے پر لیپاپوتی کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
Published: undefined
اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ملزمان اب تک گرفتار نہیں کیے جا سکے اور پولیس کی کارروائی محض رسمی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اودت راج نے کہا کہ ریاست میں دلِت برادری کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، لیکن حکومت صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن معاملات میں فوری طور پر بلڈوزر کارروائی کی جاتی ہے، کیا اسی اصول پر اس معاملے میں بھی کارروائی کی گئی یا نہیں۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما یوگیش ورما نے بھی واقعے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پورے علاقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی انصاف کے لیے سنجیدہ ہوتی تو اب تک ملزمان کے خلاف سخت اور نمایاں کارروائی ہو چکی ہوتی۔
Published: undefined
یہ سانحہ میرٹھ کے کپساڑ گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک دلِت خاندان کی خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ کھیت جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ راستے میں چند افراد نے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ ماں نے مزاحمت کی تو حملہ آوروں نے اس پر تیز دھار ہتھیار سے وار کیا۔ شدید زخمی خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی، جبکہ بیٹی کو اغوا کر لیا گیا۔
میرٹھ پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت پارس سوم اور سنیل کمار کے طور پر کی گئی ہے، جو اسی گاؤں کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا شدہ لڑکی اور ملزمان کی تلاش جاری ہے، تاہم اب تک کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، جس پر عوامی غم و غصہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined