مختار انصاری کی فائل فوٹو/ سوشل میڈیا
الہ آباد ہائی کورٹ نے غازی پور میں سابق ممبراسمبلی مختار انصاری کے رشتے کے بھائی کی غیر منقولہ جائیداد کو قرق کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کسی بھی جرم اور ضبط شدہ جائیداد کے درمیان تعلق قائم کرنے میں ناکام رہی۔ منصور انصاری کی مجرمانہ اپیل کو قبول کرتے ہوئے جسٹس راجبیر سنگھ نے واضح کیا کہ حکومت محض بے بنیاد الزامات یا صرف اس لئے کہ ایک شخص گینگسٹر سے وابستہ ہے، اس کی بنیاد پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت جائیداد ضبط نہیں کر سکتی۔
Published: undefined
قبل ازیں غازی پور کے خصوصی جج نے علاقائی پولیس کی ایک رپورٹ میں لگائے گئے اس الزام کی بنیاد پر کہ مذکورہ شخص مرحوم گینگسٹرمختار انصاری کی غیر منقولہ جائداد ہے، 26,18,025 روپے قیمت کی دکانوں اور عمارتوں کو ضبط کرنے کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔
Published: undefined
ہائی کورٹ نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ کا جائیداد ضبط کرنے کا اختیار مطلق نہیں ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے مادی ثبوت ہونے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص نے گینگسٹر ایکٹ کے تحت بیان کردہ جرم کی آمدنی سے وہ جائیداد حاصل کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس شخص کے مجرمانہ فعل اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد کے درمیان تعلق ہونا ضروری ہے۔ کسی جرم میں محض اس کا ملوث ہونا، اس کی جائیداد قرق کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیشہ ہی یہ ثابت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جو جائیداد قرق کی جارہی ہے وہ جرم کی کمائی سے حاصل کی گئی ہے۔
Published: undefined
عدالت نے پایا کہ اپیل کنندہ منصور انصاری کا گینگسٹر ایکٹ کے تحت کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اگرچہ مختار انصاری کے خلاف 2007 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن اپیل کنندہ اس کیس میں ملزم نہیں تھا۔ محض اس لیے کہ اپیل کنندہ مختار انصاری کا رشتے کا بھائی ہے، یہ اس کی جائیداد قرق کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے12 مارچ کو دیئے گئے اپنے فیصلے میں، جس کی تفصیل اب سامنے آئی ہے، غازی پور کی عدالت کے فیصلے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کو مسترد کردیا اور مدعا علیہ کو مذکورہ جائیداد فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined