رام مندر چندہ چوری معاملہ: ٹرسٹ کی شکایت پر مقدمہ درج، 8 نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی

ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملہ میں 8 نامزد اور چند نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا

<div class="paragraphs"><p>ایودھیا میں رام مندر/ سوشل میڈیا</p></div>
i

ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی شکایت پر پولیس نے 8 نامزد ملزمان اور چند نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ میں بعض افراد کو چندے کی رقم میں مبینہ خرد برد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی۔ اس معاملے میں یہ پہلا باضابطہ مقدمہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں رماکانت یادو عرف ٹِنّو یادو، لو اور انوکلپ مشرا سمیت 8 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر نقد رقم کی گنتی یا اس کی دیکھ بھال سے بتایا جا رہا ہے۔ تاہم شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا نام مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا۔

یہ مقدمہ ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ اتر پردیش حکومت کی ہدایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، جن میں ملازم کی جانب سے چوری، امانت میں خیانت، چوری شدہ مال سے متعلق جرائم، مجرمانہ سازش اور مشترکہ مجرمانہ ارادے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔


چند روز قبل ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے پر اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کے حوالے کی تھی۔ تین رکنی ٹیم نے مسلسل کئی دن تک رام مندر کا دورہ کیا، چندے کی وصولی، رقم کی گنتی، اس کی حفاظت اور متعلقہ انتظامی نظام کا جائزہ لیا۔ اس دوران مندر انتظامیہ، سیکورٹی اہلکاروں، ٹرسٹ سے وابستہ افراد اور دیگر متعلقہ اشخاص سمیت پانچ درجن سے زائد افراد سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وجے وشواس پنت کے مطابق یہ ایک خفیہ نوعیت کی جانچ ہے اور فی الحال صرف ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی ہے، جبکہ کئی پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔ حتمی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد حکومت کو پیش کی جائے گی۔

تحقیقات کے بعد رام مندر میں چندے کی رقم کی وصولی اور گنتی کے نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے سے تعینات بعض اہلکاروں کو دیگر ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، جبکہ نقد رقم کی گنتی کے عمل میں بینک کے نئے ملازمین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ نگرانی کے لیے نئے کیمرے نصب کیے گئے ہیں، الگ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے اور گنتی کے کمرے میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے سخت تلاشی کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب بینک میں رقم جمع کراتے وقت تین افراد کی مشترکہ تصدیق اور دستخط بھی لازمی قرار دیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کا امکان کم سے کم ہو سکے۔