شہریت پر جاری بحث کے درمیان پاسپورٹ فیس میں بڑا اضافہ، یکم جولائی سے نئی شرحیں نافذ

شہریت کے ثبوت پر جاری سیاسی بحث کے درمیان مرکزی حکومت نے پاسپورٹ اور اس سے متعلق مختلف خدمات کی فیس میں اضافہ کر دیا۔ نئی شرحیں یکم جولائی سے نافذ ہوں گی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

مرکزی حکومت نے پاسپورٹ اور اس سے متعلق مختلف خدمات کی فیس میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ اس فیصلے کے تحت نیا پاسپورٹ بنوانے، اس کی تجدید کرانے، گم شدہ یا خراب پاسپورٹ کی دوبارہ اجرائی اور فوری پاسپورٹ سمیت مختلف خدمات پہلے کے مقابلے میں مہنگی ہو جائیں گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت نہ مانے جانے کے معاملے پر ملک میں سیاسی بحث جاری ہے۔

نئی شرحوں کے مطابق عام 36 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس 1500 روپے سے بڑھا کر 2500 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ 60 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے کے بجائے اب 3500 روپے ہوگی۔ اگر پاسپورٹ گم ہو جائے یا خراب ہو جائے تو 36 صفحات والے پاسپورٹ کی دوبارہ اجرائی کے لیے 5000 روپے اور 60 صفحات والے پاسپورٹ کے لیے 6000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

تتکال (فوری) پاسپورٹ کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ 36 صفحات والے تتکال پاسپورٹ کی فیس اب 5000 روپے جبکہ 60 صفحات والے فوری پاسپورٹ کی فیس 6000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 18 برس سے کم عمر بچوں کے پاسپورٹ کی فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ بچوں کے نئے پاسپورٹ کی فیس 1750 روپے اور گم یا خراب ہونے کی صورت میں دوبارہ اجرائی کی فیس 4250 روپے ہوگی۔


اس کے علاوہ پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ، سرینڈر سرٹیفکیٹ اور گلوبل انٹری پروگرام جیسی خدمات کی فیس بھی 500 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے آٹھ سال تک کے بچوں اور 60 برس سے زیادہ عمر کے بزرگوں کو نئے پاسپورٹ کی فیس میں 10 فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رعایت صرف نئے پاسپورٹ پر دستیاب ہوگی، تجدید یا دوبارہ اجرائی پر نہیں ملے گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ کی مدتِ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بالغ افراد کا پاسپورٹ پہلے کی طرح دس برس جبکہ بچوں کا پاسپورٹ پانچ برس یا 18 برس کی عمر مکمل ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، مؤثر رہے گا۔

دوسری جانب وزارتِ خارجہ کے اس بیان کے بعد سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے اور اسے کبھی بھی شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا گیا۔ حکومتی ذرائع نے ایک بار پھر کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی بلکہ یہی اصول پہلے سے نافذ ہے۔

کانگریس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاسپورٹ کے معاملے کو بنیاد بنا کر مستقبل میں شہریوں کی شہریت پر سوال اٹھانے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ پارٹی کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔