چندرابابو نائیڈو کا گوداوری اور کاویری ندیوں کو جوڑنے کا مطالبہ، منصوبے کو قومی حیثیت دینے پر زور
وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے گوداوری اور کاویری ندیوں کو جوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنوبی ریاستوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اس منصوبے کو قومی منصوبہ قرار دینے کی اپیل کی

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے گوداوری اور کاویری ندیوں کو آپس میں جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو قومی منصوبے کی حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور تلنگانہ سمیت جنوبی ریاستوں کو پانی کی بہتر فراہمی اور زرعی شعبے میں نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
چندرابابو نائیڈو کرناٹک کے ہوسپیٹے میں واقع تنگبھدرا ڈیم پر تینتیس نئے کریسٹ گیٹوں کی تنصیب اور افتتاح کے بعد منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی اور مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو گوداوری اور کاویری ندیوں کو جوڑنے کے منصوبے کو قومی ترجیح کے طور پر اختیار کرنا چاہیے تاکہ پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے اور مختلف ریاستوں کے درمیان آبی تعاون کو مزید فروغ ملے۔ ان کے مطابق اگر ملک کی بڑی ندیوں کو ایک مربوط نظام کے تحت جوڑ دیا جائے تو ہندوستان آبی وسائل کے بہتر انتظام میں نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ’’ایک قوم، ایک گرڈ‘‘ جیسی قومی پہل، مضبوط سڑکوں اور مواصلاتی ڈھانچے نے ترقی کی رفتار کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گنگا اور کاویری سمیت اہم ندیوں کو باہم مربوط کر دیا جائے تو ملک کی ترقی کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی ندیوں کو پہلے ہی کین۔بیتوا منصوبے کے ذریعے جوڑا جا چکا ہے، جس سے بین الریاستی آبی تعاون کی ایک مؤثر مثال سامنے آئی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر سی آر پاٹل کی بھی تعریف کی، جنہوں نے آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ کے وزرائے اعلیٰ کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر کسانوں کے مفادات سے متعلق اہم امور پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔
چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ تنگبھدرا ڈیم تین ریاستوں کے کسانوں اور مقامی آبادی کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اسی سے آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار چوبیس میں ڈیم کا انیسواں گیٹ بہہ جانے کے بعد عارضی اسٹاپ لاگ گیٹ نصب کیا گیا تھا، جبکہ اب تمام تینتیس کریسٹ گیٹ کامیابی کے ساتھ تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش اور کرناٹک کی حکومتوں نے باہمی تعاون سے اس منصوبے کو مکمل کیا، جس سے ڈیم کی فعالیت بحال ہوئی اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث تنگبھدرا اور المٹّی آبی ذخائر میں بالائی علاقوں سے پانی کی آمد کم ہو گئی ہے، جس کے باعث مستقبل میں پانی کے مؤثر انتظام اور بین الریاستی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
