
مشتعل مزدوروں (فائل فوٹو)
مغربی اتر پردیش کے سب سے بڑے صنعتی شہر نوئیڈا میں مزدوری بڑھانے کی مانگ کو لے کر پیر کو ہوئے پرتشدد ہنگامے کے بعد حکومت بیک فٹ پر آتی نطر آرہی ہے۔ مزدوروں کے سخت احتجاج کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے دیر رات ہی کم ازکم مزدوری میں اضافہ کا اعلان کرنا پڑا تاہم اضافی مزدوری کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آنے کے بعد اب ریاستی حکومت کو صفائی دینا پڑی ہے۔
Published: undefined
اترپردیش حکومت کی جانب سے منگل کو صبح جاری ایک پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر من گھڑنت اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت 20،000 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے لیکن آجر تنظیموں کی طرف سے اس کی تعمیل نہیں کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
اس پر یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نئے لیبر قوانین (لیبر کوڈز) کے تحت قومی سطح پر کم از کم اجرت طے کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں مزدوروں کے لیے یکساں بیس لائن کم از کم اجرت کو یقینی بنانا ہے، جس سے تمام ریاستوں میں مزدوروں کے لیے منصفانہ اور معقول محنتانہ حاصل ہوسکے۔
Published: undefined
ریاستی حکومت کی جانب سے بھی آجر تنظیموں اور مزدور یونینوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش حکومت نے حال ہی میں کم از کم اجرت کی شرحوں کا اعلان کیا ہے جن کے مطابق غیر ہنر مند مزدوروں کو ماہانہ اجرت 11,313.65 روپئے اور یومیہ اجرت 435.14 روپئے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح نیم ہنر مند مزدوروں کی ماہانہ اجرت 12,446 روپئے اور یومیہ اجرت 478.69 روپئے مقرر کی گئی ہے۔ ہنر مند مزدوروں کو فی الحال 13,940.37 اور یومیہ اجرت 536.16 روپئے دی جاتی ہے۔ نئے لیبر کوڈ کے دستورالعمل پر فی الحال کارروائی جاری ہے۔
Published: undefined
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں صنعتی دنیا عالمی اور معاشی چیلنجز کے دور سے سامنا ہے۔ صنعتوں کے لیے خام مال کی قیمتیں بڑھی ہیں اور برآمدات میں کمی آئی ہے۔ مزید برآں مزدوروں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل اور مطالبات متعلقہ، اہم اور قابل غور ہیں۔ ایسی صورت حال میں دونوں فریقوں یعنی صنعت اور مزدوروں کے درمیان ہم آہنگی اور متوازن رویہ اپناتے ہوئے کسی فیصلے پر پہنچنا ضروری ہے۔
Published: undefined
اس دوران اتر پردیش حکومت نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر بھروسہ کریں۔ حکومت نے ماحول کو خراب کرنے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined