دہلی فسادات کیس: عمر خالد کو ہفتے میں دو بار اہل خانہ سے ای ملاقات کی اجازت
دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کو بڑی راحت دیتے ہوئے ہفتے میں دو بار ویڈیو کے ذریعے اہل خانہ سے ای ملاقات کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ چھ برس کے دوران انہوں نے جیل قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی

نئی دہلی: راجدھانی دہلی کی ایک عدالت نے سنہ 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں گزشتہ تقریباً 6 برس سے جیل میں بند سابق طلبہ رہنما عمر خالد کو بڑی راحت دیتے ہوئے ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ویڈیو کے ذریعے ای ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چونکہ عمر خالد نے جیل میں قیام کے دوران کسی بھی جیل ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی، اس لیے انہیں یہ سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
عمر خالد نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہفتے میں دو بار ویڈیو کال کے ذریعے اپنی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے گفتگو کی اجازت دی جائے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل جانے کے بعد سے انہیں ہر ہفتے دو ای ملاقاتوں کی سہولت حاصل تھی، تاہم مئی 2026 سے بغیر کسی وجہ بتائے اس سہولت کو کم کرکے ہفتے میں ایک بار کر دیا گیا۔
ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے 13 جولائی کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ عمر خالد گزشتہ چھ برس سے مسلسل اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے دہلی جیل قواعد و ضوابط کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی۔ عدالت نے اس بنیاد پر انہیں دوبارہ ہفتے میں دو بار ای ملاقات کی اجازت دے دی۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد سے بات چیت کے لیے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان کا جیل میں رویہ اطمینان بخش رہا ہے اور ان کے خلاف جیل قوانین کی خلاف ورزی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب جیل انتظامیہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ جیل ضوابط کے مطابق عمر خالد ہفتے میں صرف ایک ای ملاقات کے حق دار ہیں۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ چونکہ انہیں گزشتہ چھ برس سے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی سہولت حاصل رہی ہے، اس لیے اس سہولت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ عمر خالد سنہ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں شرجیل امام اور دیگر کئی افراد بھی نامزد ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہی دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی مستقل ضمانت کی درخواست ایک مرتبہ پھر مسترد کر دی تھی۔ اس سے قبل بھی عمر خالد کی ضمانت کی متعدد درخواستیں مختلف عدالتوں میں مسترد ہو چکی ہیں۔ حالیہ عدالتی حکم ان کی حراستی زندگی کے دوران اہل خانہ سے رابطے کے حق سے متعلق ایک اہم راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
