نوئیڈا میں نجی کمپنیوں کے خلاف ملازمین کا شدید احتجاج، کم تنخواہ اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے الزامات
نوئیڈا میں نجی کمپنیوں کے ملازمین کم تنخواہ اور ریکارڈ میں زیادہ رقم دکھانے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ انتظامیہ نے نئے لیبر قوانین نافذ کرنے کا یقین دلایا

نوئیڈا میں نجی کمپنیوں کے ملازمین کا گزشتہ چند دنوں سے جاری احتجاج پیر کے روز اچانک شدت اختیار کر گیا، جب سینکڑوں کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کے ساتھ ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی پیش آئے۔ کچھ مقامات پر گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی اطلاعات ملیں، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی بڑھا دی اور کئی راستوں پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا۔
یہ احتجاج صرف تنخواہ بڑھانے کے مطالبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ملازمین کی طویل عرصے سے چلی آ رہی ناراضگی اور مبینہ استحصال کی شکایات بھی شامل ہیں۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ کمپنیوں کی جانب سے اصل تنخواہ کم دی جاتی ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں زیادہ رقم ظاہر کی جاتی ہے۔ ایک خاتون ملازمہ کے مطابق انہیں 9 سے 11 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں لیکن کاغذات میں 25 ہزار روپے درج ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملازم آواز اٹھائے تو محض 200 یا 300 روپے کا معمولی اضافہ کر کے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ملازمین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان سے روزانہ 10 سے 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے لیکن نہ تو اضافی وقت کی مناسب اجرت دی جاتی ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ کئی کارکنوں نے بتایا کہ انہیں ہفتہ وار چھٹی تک میسر نہیں ہوتی اور طبی یا حفاظتی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ خاص طور پر خواتین ملازمین نے کام کی جگہ پر تحفظ کے مسائل کو اجاگر کیا اور کہا کہ بنیادی سہولتوں کی کمی ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
اس احتجاج کی بازگشت نوئیڈا سے نکل کر فرید آباد تک پہنچ گئی، جہاں مختلف صنعتی علاقوں میں ہزاروں کارکنوں نے کام بند کر کے سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔ بعض بڑی کمپنیوں کے ملازمین نے بھی ہڑتال کا اعلان کیا، جس کے باعث صنعتی پیداوار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قانون و نظم برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نئے لیبر قوانین کے تحت اضافی وقت کا دوگنا معاوضہ، ہفتہ وار چھٹی اور بروقت تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ خواتین کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بنانے اور نگرانی کے نظام کو سخت کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ محض اعلانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جب تک زمینی سطح پر ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اس طرح کے وعدے کیے گئے، لیکن عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، جس کے باعث ان کا غصہ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔