قومی خبریں

ادھو ٹھاکرے گروپ کے ’باپ تو باپ ہوتا ہے‘ پوسٹر سے ممبئی کی سیاست میں کھلبلی

’ماتوشری‘ کے باہر ٹھاکرے گروپ کی شیوسینا نے ’باپ تو باپ ہوتا ہے‘ پوسٹر لگا کرسیاسی پیغام کے ساتھ ساتھ اکثریت سے دور ہونے کے باوجود 65 کونسلروں کی جیت کو مراٹھی عوام کے اعتماد کی جیت قرار دیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ادھو ٹھاکرے / آئی اے این ایس</p></div>

ادھو ٹھاکرے / آئی اے این ایس

 

ممبئی میں ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ کے باہر شیوسینا (یو بی ٹی) کی جانب سے لگائے گئے ایک پوسٹر نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ پوسٹر پر جلی حروف میں لکھا ہے، ’’باپ تو باپ ہوتا ہے‘‘ یہ پوسٹر شاخا کے سربراہ سنیل جادھو کی طرف سے لگایا گیا ہے جس کو براہ راست سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اگرچہ ٹھاکرے کی شیو سینا حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن پارٹی کے 65 کونسلرمنتخب کئے گئے ہیں۔ اسی جیت کو بنیاد بناکر یہ پوسٹر لگایا گیا ہے۔ پوسٹر میں لکھا گیا ہے کہ خواہ نشان چلا گیا، پارٹی ٹوٹ گئی، ممبران اسمبلی،ممبران پارلیمنٹ اور کونسلر ٹوٹ گئے لیکن اس کے باوجود ’صفر‘ سے’شکھر‘ تک 65 کونسلر جیت کر آئے۔

Published: undefined

پوسٹر کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جیت مراٹھی لوگوں کے اعتماد کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام سیاسی ہلچل اور تقسیم کے باوجود عوام نے ٹھاکرے کی شیوسینا پر اعتماد کا اظہار کیا۔ پارٹی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہی اعتماد ان کی اصل طاقت ہے اور آنے والے وقت میں بھی یہی بنیاد رہے گا۔

Published: undefined

’’باپ تو باپ ہوتا ہے‘‘ محض نعرہ نہیں بلکہ مخالفین پر طنز بھی ہے۔ یہ پیغام واضح طور پر یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ اصلی شیوسینا کی شناخت اور جڑیں ابھی بھی شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے ساتھ ہیں خواہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ رہے ہوں۔ پوسٹر نے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کردیا ہے، وہیں اپوزیشن جماعتوں میں بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔

Published: undefined

خیال کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹھاکرے گروپ اسی اعتماد کی بنیاد پر اپنی سیاست کو مزید دھار دینے کی کوشش کرے گا۔ مجموعی طور پر ماتوشری کے باہر آویزاں یہ پوسٹر صرف دیوار پر چسپاں کاغذ نہیں بلکہ ایک سیاسی اعلان بن گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined