
ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے فوری سنجیدگی دکھائے، بصورت دیگر حالات ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سمجھوتے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایرانی نمائندے غیر معمولی اور عجیب طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ سے معاہدہ کرنے کے لیے بار بار رابطہ کر رہا ہے اور گویا درخواستیں کر رہا ہے، کیونکہ وہ عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس دوبارہ ابھرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایران ایک طرف پس پردہ رابطے کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر مختلف موقف اختیار کر رہا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے فوری طور پر سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا تو نتائج اس کے لیے بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور فیصلہ کن مرحلہ قریب ہے، اس لیے تہران کو تاخیر کے بجائے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔
Published: undefined
دوسری طرف ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی براہ راست مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ عمل جاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ امریکہ کی طرف سے بعض پیغامات دیگر ممالک کے ذریعے ضرور پہنچائے گئے، لیکن انہیں مذاکرات یا باقاعدہ گفت و شنید قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایک 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ ایران کے سامنے پیش کیا تھا، جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
Published: undefined
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ کارروائی کا فیصلہ چند دن کے لیے مؤخر کیا تھا۔ اس مہلت کی مدت اب ختم ہونے کے قریب ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
موجودہ حالات میں یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کریں گے یا کشیدگی مزید بڑھے گی، تاہم آنے والے دن اس تنازع کے رخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined