بی جے پی میں وزیر اعلیٰ صرف ’پرچی پڑھنے‘ تک محدود، اکھلیش یادو کا طنز

اکھلیش یادو نے اتر پردیش کابینہ توسیع پر بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں وزرائے اعلیٰ صرف ’پرچی پڑھنے‘ تک محدود ہو گئے ہیں اور تمام فیصلے اوپر سے طے ہوتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش کابینہ توسیع پر بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں وزیر اعلیٰ صرف ’کورئیر میسنجر‘ رہ گئے ہیں اور فیصلے اوپر سے آنے والی پرچی کے مطابق ہوتے ہیں۔

اتر پردیش میں کابینہ کی توسیع کے بعد سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر سخت طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں وزرائے اعلیٰ کی حیثیت محض ایک ’کورئیر میسنجر‘ کی رہ گئی ہے اور اصل فیصلے کہیں اور سے کیے جاتے ہیں۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کابینہ توسیع کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ وقت گزارنے کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن کابینہ توسیع میں وزیر اعلیٰ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اوپر سے صرف ایک پرچی آتی ہے اور یہاں اسے پڑھ کر سنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ کا مطلب ہی اب ’کورئیر میسنجر‘ بن کر رہ گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے اپنی پوسٹ میں مزید طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عوام یہ سوال بھی پوچھ رہی ہے کہ فلم آگے بیٹھ کر دیکھی جائے گی یا پیچھے بیٹھ کر۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ فلم غور سے دیکھی جائے، شاید اس سے ’کرم پھل‘ کا نظریہ سمجھ میں آجائے اور کسی مثبت تبدیلی کی راہ نکل سکے۔


اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں اخلاقیات اور انسانی رویوں پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل برائی کسی انسان میں نہیں بلکہ اس کے لالچ اور خود غرضی میں ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کے برے طرز عمل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان کے مطابق جب انسان برائی کے راستے پر چلتا ہے تو وہ مزید برائی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ذاتی مفاد چھوڑ کر دوسروں کی بھلائی کے راستے پر چل پڑے تو اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے اور وہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انسان کے اندر موجود چند اچھائیاں اس کی بے شمار برائیوں پر غالب آسکتی ہیں اور یہی پیغام ہمارے عظیم رزمیہ قصوں اور روایات میں بھی ملتا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ اپنی غلطیوں اور بری نیتوں پر ندامت کے لیے کسی خاص جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے انسان کے اندر روشنی اور احساس بیدار ہونا ضروری ہے، چاہے وہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان کسی بند ماحول میں ہی کیوں نہ ہو۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔