واٹس ایپ پر فاریکس ٹریڈنگ کا جھانسا دے کر 8.52 کروڑ کی ٹھگی، کلیدی ملزم گرفتار کیا

جھارکھنڈ سی آئی ڈی نے واٹس ایپ کے ذریعے فاریکس ٹریڈنگ میں بھاری منافع کا لالچ دے کر 8.52 کروڑ روپے کی ٹھگی کرنے والے ایک ملزم کو اتر پردیش کے مرزاپور سے گرفتار کیا ہے۔ معاملے کی مزید جانچ جاری ہے

ای ڈی، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

رانچی: جھارکھنڈ پولیس کے جرائم تفتیشی محکمہ یعنی سی آئی ڈی نے سائبر ٹھگی کے ایک بڑے معاملے کا پردہ فاش کرتے ہوئے اتر پردیش کے مرزاپور سے ایک مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں کو فاریکس ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کا لالچ دے کر کروڑوں روپے کی ٹھگی کی۔

سی آئی ڈی کے مطابق رانچی کے سائبر کرائم تھانے میں درج مقدمہ نمبر 27/26 کے تحت کارروائی انجام دی گئی۔ ایک متاثرہ شخص نے شکایت درج کرائی تھی کہ اسے واٹس ایپ پر ’فور گراؤنڈ‘ نامی ایک گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس گروپ میں موجود افراد نے غیر ملکی کرنسی کی تجارت یعنی فاریکس ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری پر بھاری منافع حاصل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

تحقیقات میں پتہ چلا کہ شروع میں متاثرہ شخص کا اعتماد جیتنے کے لیے ایک فرضی ویب سائٹ پر سرمایہ کاری سے ہونے والے منافع کی جعلی تفصیلات دکھائی گئیں۔ ویب سائٹ پر مسلسل بڑھتے ہوئے منافع کو دیکھ کر متاثرہ شخص کو مزید سرمایہ لگانے پر آمادہ کیا گیا۔ بعد میں اس سے مختلف بینک کھاتوں میں سرمایہ کاری کے نام پر بڑی رقم جمع کرائی گئی۔


پولیس کے مطابق اس طریقے سے متاثرہ شخص سے مجموعی طور پر 8.52 کروڑ روپے کی ٹھگی کی گئی۔ جب متاثرہ شخص کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا تو اس نے سائبر کرائم تھانے میں شکایت درج کرائی۔ تکنیکی جانچ اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر پولیس کو اس معاملے کے تار اتر پردیش سے جڑے ہونے کی معلومات ملیں۔

اس کے بعد جھارکھنڈ پولیس کی ٹیم نے مرزاپور پولیس کے تعاون سے چھاپہ ماری کی اور ملزم برجیش سنگھ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم مرزاپور ضلع کا رہنے والا ہے۔ اس کے قبضے سے جرم میں استعمال ہونے والے موبائل فون، سم کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور چیک بک بھی برآمد کی گئی ہیں۔

جانچ ایجنسیاں اب اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ اس گینگ میں اور کتنے لوگ شامل ہیں اور آیا ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرز کی ٹھگی کو انجام دیا گیا ہے یا نہیں۔ سی آئی ڈی حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا یا واٹس ایپ پر موصول ہونے والی سرمایہ کاری کی کسی بھی پیشکش پر بغیر تحقیق اعتماد نہ کریں اور کسی بھی مشتبہ آن لائن سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر سائبر پولیس کو دیں۔