سرحد، سیاست اور بداعتمادی: نیپال اور ہندوستان کے تعلقات نازک موڑ پر
نیپال نے کیلاش مانسروور یاترا کے لیے لپولیکھ درہ کے استعمال پر سخت اعتراض درج کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ اس تنازعہ نے ہمالیائی خطے میں نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے

جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں ایک نیا حساس مرکز ابھر کر سامنے آیا ہے۔ تقریباً 17 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع لپولیکھ درہ اتراکھنڈ کے کماؤں خطے میں ایک تنگ پہاڑی راستہ ہے۔ یہ راستہ ہندوستان کی وادی ویاس کو چین کے تبت خودمختار علاقے سے جوڑتا ہے اور کیلاش مانسروور یاترا کے اہم داخلی دروازے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کی سرحدوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے لپولیکھ پورے ہمالیائی خطے میں نہ صرف تزویراتی اعتبار سے بے حد اہم ہے بلکہ اس کی مذہبی اور ثقافتی حیثیت بھی غیر معمولی مانی جاتی ہے۔
3 مئی کو نیپال کی وزارت خارجہ نے 2026 کی کیلاش مانسروور یاترا کے لیے لپولیکھ درہ کے استعمال پر باضابطہ اعتراض درج کیا۔ وزارت کی جانب سے جاری نوٹ میں کہا گیا کہ مہاکالی ندی کے مشرق میں واقع لمپیادھورا، لپولیکھ اور کالاپانی کے علاقے 1816 کی سگولی معاہدے کے وقت سے ہی نیپال کے اٹوٹ حصے رہے ہیں۔ نیپال نے واضح کیا کہ اس نے سفارتی ذرائع کے ذریعے ہندوستان اور چین دونوں کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ یاترا ایسے علاقے سے گزاری جا رہی ہے جسے نیپال اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔
نیپال نے یہ بھی کہا کہ وہ مسلسل حکومت ہند سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اس خطے میں سڑک کی تعمیر یا توسیع، سرحدی تجارت اور مذہبی یاترا جیسی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔ کھٹمنڈو کا مؤقف یہ بھی تھا کہ ہندوستان اور چین نے یاترا کے راستے کو حتمی شکل دینے سے پہلے نیپال سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ اس معاملے کو مزید اہم اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ سفارتی پیغام ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے دورۂ نیپال سے عین پہلے سامنے آیا۔ وکرم مسری 11 مئی کو کھٹمنڈو پہنچنے والے ہیں، جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات اور سرحدی معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
اس کے جواب میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح اور یکساں رہا ہے۔ ان کے مطابق لپولیکھ درہ 1954 سے کیلاش مانسروور یاترا کا روایتی راستہ رہا ہے اور کئی دہائیوں سے یاتری اسی راستے کا استعمال کرتے آئے ہیں، اس لیے اسے کوئی نئی پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقائی دعووں کے معاملے میں ہندوستان ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ ایسے دعوے نہ تو تاریخی حقائق پر مبنی ہیں اور نہ ہی قابل قبول ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی علاقے پر یکطرفہ اور من مانے انداز میں دعویٰ کرنا مناسب نہیں۔
ہندوستان نے ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ نیپال کے ساتھ تمام متنازع مسائل پر تعمیری بات چیت کے لیے تیار ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں۔
جس سگولی معاہدے کا حوالہ دے کر نیپال لپولیکھ پر اپنا حق جتاتا ہے، اس پر 2 دسمبر 1815 کو دستخط کیے گئے تھے اور 4 مارچ 1816 کو اسے باضابطہ منظوری ملی تھی۔ یہ معاہدہ نیپال سلطنت اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہونے والی اینگلو-نیپال جنگ کے خاتمے کے بعد طے پایا تھا۔ اس جنگ میں شکست کے بعد نیپال کو اپنا تقریباً ایک تہائی علاقہ برطانوی حکومت کے حوالے کرنا پڑا تھا، جس میں کماؤں، گڑھوال اور ترائی کے کئی علاقے شامل تھے۔ اسی معاہدے نے بعد میں ہندوستان اور نیپال کی موجودہ سرحدی ساخت کی بنیاد رکھی۔
نیپال مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ لمپیادھورا، لپولیکھ اور کالاپانی اس کے ناقابل تقسیم حصے ہیں۔ کھٹمنڈو کا کہنا ہے کہ اس نے نئی دہلی اور بیجنگ دونوں کو باضابطہ سفارتی نوٹ بھیج کر اس خطے میں کسی بھی قسم کی سرگرمی سے دور رہنے کو کہا ہے۔ اس کے باوجود نیپال یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ وہ تمام سرحدی تنازعات کو پرامن سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔
اگرچہ لپولیکھ راستے سے کیلاش مانسروور یاترا کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اسے نئی بات نہیں کہا جا سکتا، لیکن جو چیز واقعی نئی ہے وہ نیپال کی موجودہ حکومت کا اس معاملے پر زیادہ جارحانہ اور دوٹوک مؤقف ہے۔ بالین شاہ کی قیادت میں نیپال اب صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ چین کے سامنے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کر رہا ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ کٹھمنڈو خطے میں اپنی خودمختار سفارتی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس نئی حکمت عملی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا نیپال کی نئی نسل، خاص طور پر جین-زیڈ سوچ رکھنے والی قیادت، روایتی سفارتی احتیاط کے بجائے زیادہ بے باک اور براہ راست مؤقف اختیار کر رہی ہے؟ یا پھر اس پورے معاملے کے پیچھے کوئی ایسا غیر مرئی اثر موجود ہے جو نیپال کی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دے رہا ہے؟ ان سوالات کے جواب آنے والے دنوں میں ہندوستان، نیپال اور چین کے تعلقات کی نوعیت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نیپال کے نئے وزیر اعظم بالین شاہ اس وقت غیر معمولی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحثوں میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں دباؤ بڑھانے والے نکات کے طور پر اکسائی چن اور دارجلنگ کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے۔ کئی وائرل ویڈیوز میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر اکسائی چن کو ہندوستان کا حصہ دکھایا جا سکتا ہے تو پھر لپولیکھ کو نیپال کا حصہ کیوں نہیں مانا جا سکتا۔ اسی طرح بعض ویڈیوز میں یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ دارجلنگ کو نیپال کے حصے کے طور پر پیش کیا جائے۔
اب تک بالین شاہ ایک پراسرار سیاسی شخصیت بنے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ خود نیپال میں بھی ان کے بارے میں محدود معلومات سامنے آتی ہیں۔ وہ زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے ہی اپنی بات رکھتے ہیں اور انٹرویو یا پریس کانفرنس سے گریز کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے سفارتی آداب کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان میں امریکہ کے سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے خصوصی ایلچی سرجیو گور سے نیپال دورے کے دوران ملاقات سے بھی انکار کر دیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بالین شاہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک ہندوستان کا دورہ نہ کریں جب تک ہندوستانی وزیر اعظم خود ان کا استقبال نہ کریں۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مسری ان سے ملاقات کر پائیں گے یا نہیں۔
30 اپریل کو سرجیو گور کے ایوریسٹ بیس کیمپ روانہ ہونے سے صرف ایک دن پہلے نیپال کی وزارت داخلہ نے “ایئر لفٹ ٹیکنالوجی” نامی ایک نیپالی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ اور ایوریسٹ مہم سے وابستہ ادارے کی سرگرمیوں کو کچھ نامعلوم سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے معطل کر دیا تھا۔ سرجیو گور کو امید تھی کہ وہ ایسے ڈرونز کا عملی مظاہرہ دیکھ سکیں گے جو پہاڑی علاقوں میں کچرا اور سامان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ “کٹھمنڈو پوسٹ” کے مطابق یہ حکم بنیادی طور پر دو ڈرونز کو نشانہ بناتا محسوس ہوا، جن میں چین میں تیار کردہ ڈی جے آئی فلائی کارٹ 100 اور امریکہ میں تیار کردہ فری فلائی سسٹمز آلٹا ایکس جین 2 شامل تھے۔ یہ دونوں ڈرون ایئر لفٹ آپریشن سے جڑے ہیں اور تھری ڈی میپنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم پانچ دن بعد یہ معطلی ختم کر دی گئی۔
نیپال کے مصنف، مبصر اور ٹریول بلاگر کیدار شرما نے “سنڈے نوجیون” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی لپولیکھ کا معاملہ سامنے آیا ہے، نیپال نے ہمیشہ اپنے علاقائی حق پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی وزارت خارجہ شاید چین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ نیپال کے ساتھ سرحدی مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، اسی لیے نیپال کے دعوے کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستانی یاتریوں اور تاجروں کو لپولیکھ درہ استعمال کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
کیدار شرما نے لپولیکھ پر ہندوستان کے دعوے کی وضاحت کے لیے ہندی کی کہاوت “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کا استعمال کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکہ یا دوسرے ممالک پر اشتعال انگیزی کے الزامات کو محض سازشی سوچ قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ “ہم تو تب بھی سی آئی اے کا ہاتھ تلاش کرنے لگتے ہیں جب گلی کے کتے آپس میں لڑتے ہیں۔”
تاہم سرحدی علاقوں پر نیپال کے دعووں کو اس بڑھتے ہوئے عوامی احساس کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے جس میں ہندوستان کو اب پہلے جیسا قابل اعتماد دوست یا شراکت دار نہیں سمجھا جا رہا۔ یہ سوچ خاص طور پر 2015-16 کی ناکہ بندی کے بعد زیادہ مضبوط ہوئی، جب کئی مہینوں تک خشکی میں گھرے نیپال کو ہندوستان کی جانب سے ایندھن، دوائیں اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں شدید رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ہندوستان نے کسی باضابطہ ناکہ بندی سے انکار کیا اور اس کی وجہ مدھیسی برادری کے احتجاج کو قرار دیا، لیکن اس تعطل نے ایک سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا تھا، جو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد مزید گہرا ہو گیا۔
اس کے بعد سے نیپال میں عام تاثر یہی رہا کہ ہندوستان نے ناکہ بندی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نیپال کو مجبور کیا کہ وہ اپنے نئے آئین میں مدھیسی طبقے کی خواہشات کو شامل کرے۔ ہندوستانی فوج میں گورکھا جوانوں کی بھرتی کم کرنے اور اس کے بجائے ’اگنی پتھ یوجنا‘ اختیار کرنے کے مشورے نے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کی۔
نیپال کے اندر اس معاملے پر رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیپال اب بھی ایندھن، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کے لیے بڑی حد تک ہندوستان پر منحصر ہے۔ دوسری طرف نیپال میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور اپنے اس چھوٹے پڑوسی کے تئیں ہندوستانی رویے، جس کا اظہار اکثر سوشل میڈیا پر بھی ہوتا ہے، نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیپال میں بعض حلقوں کی جانب سے امریکہ کے کسی فوجی یا دیگر اڈے کے قیام کی مانگ بھی سنائی دینے لگی ہے۔
فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بالین شاہ، اپنی مدھیسی پس منظر اور ہندوستان سے تاریخی قربت کے باوجود، لپولیکھ کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
(سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد مصنف اور مبصر ہیں)
