
کلیان بنرجی / ویڈیوگریب
لوک سبھا میں بدھ کے روز ایک طرف طلبا کی تحریک اور تعلیمی نظام کو لے کر ہنگامہ دیکھنے کو ملا، اور دوسری طرف ایوان زیریں میں ایک ایسا حکم صادر ہوا جو حیرت انگیز ہے۔ دراصل ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انھیں پورے مانسون اجلاس سے معطل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو خاتون اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور قابل اعتراض زبان کے استعمال کا الزام کرنے پر پورے مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایوان کے اندر کلیان بنرجی اور این سی پی آئی اراکین پارلیمنٹ کے درمیان تلخ بحث کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس بحث کی شکایت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا تک پہنچی، جس کے بعد کلیان بنرجی کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے ہنگامہ کے درمیان ایوان ملتوی ہونے کے ٹھیک بعد کلیان بنرجی اور ان کے کچھ سابق ساتھیوں (جو اب این سی پی آئی کے اراکین پارلیمنٹ ہیں) کے بیچ تلخ نوک جھونک ہو گئی۔ اس تنازعہ میں این سی پی آئی اراکین پارلیمنٹ متالی باغ، شتابدی رائے اور کاکولی گھوش دستیدار شامل تھیں۔ تنازعہ کس بات پر شروع ہوا، اس سلسلے میں فی الحال کچھ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کے کچھ اراکین پارلیمنٹ نے بیچ بچاؤ کر کے دونوں فریقین کو خاموش کرایا۔ اس کے بعد کلیان بنرجی ایوان سے باہر چلے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بحث کے بعد کاکولی گھوش دستیدار، شتابدی رائے اور این سی پی آئی کے کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے کمرے میں پہنچے اور معاملے کی شکایت کی۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر نے ان سے پورے واقعہ کی تحریری شکایت دینے کو کہا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ کلیان بنرجی نے ایوان کے اندر کاکولی گھوش، شتابدی رائے اور کچھ دیگر خاتون اراکین پارلیمنٹ کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔
اس معاملے کو سنگین مانتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے ایوان میں تجویز رکھی کہ کلیان بنرجی نے خاتون اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بدسلوکی کی، اس لیے انھیں اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کیا جائے۔ بعد ازاں لوک سبھا اسپیکر نے اس تجویز پر ایوان میں ووٹنگ کرائی۔ ووٹنگ کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ تجویز کو منظوری مل گئی ہے اور کلیان بنرجی کو مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انھیں فوری ایوان احاطہ سے باہر جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس پورے واقعہ کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔