توڑ پھوڑ، ’اسمارٹ سٹی‘ کی بارش اور روزگار کا مشورہ...منی بندوپادھیائے

اتر پردیش میں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مذہبی ڈھانچوں کے انہدام، گورکھپور کی بارش اور نوجوانوں کو روزگار کے بجائے ای رکشہ چلانے کے مشورے نے یوگی حکومت کے سامنے سیاسی سوال کھڑے کر دیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

اتر پردیش میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مذہبی ڈھانچوں کے انہدام اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں نے سیاسی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ سہارنپور کی ایک قدیم مسجد کے انہدام سے لے کر مرادآباد، سنبھل، سنت کبیر نگر، وارانسی، بہرائچ، دیوریا اور لکھنؤ تک سامنے آنے والے واقعات نے سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا یہ کارروائیاں محض قانونی اور انتظامی معاملات ہیں یا ان کا کوئی بڑا سیاسی پس منظر بھی ہے؟

سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں موجود مسجد کو 5 ستمبر 2026 کی نصف شب اس وقت منہدم کر دیا گیا جب ضلعی عدالت کے جج کی جانب سے مسجد انتظامیہ کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کیا اوپری عدالت میں اپیل کا موقع دیے بغیر اتنی عجلت میں کارروائی کرنا ضروری تھا؟ الہ آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 12 اکتوبر کو ہونی ہے۔

اس مسجد کے خلاف مارچ 2025 میں بجرنگ دل کے ایک کنوینر نے شکایت درج کرائی تھی کہ یہ سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد انتظامیہ نے اپنے دعوے کے حق میں 1911 کا بجلی کنکشن سرٹیفکیٹ، میونسپل ٹیکس کی رسیدیں اور وقف و پوسٹ آفس کے درمیان 1994 کا لیز معاہدہ سمیت کئی دستاویزات پیش کیے تھے۔

دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سٹی مجسٹریٹ نے 16 جولائی 2026 کو مسجد انتظامیہ کو وہاں سے مسجد ہٹانے کا حکم دیا اور زمین کو سرکاری ملکیت قرار دیا۔ مجسٹریٹ نے 70 برس سے زیادہ عرصے تک غیر مجاز قبضے کے لیے 6.41 کروڑ روپے کی وصولی کا بھی حکم دیا، تاہم ہائی کورٹ نے اس رقم کی وصولی پر روک لگا دی ہے۔ مسجد ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی بتائی جاتی ہے اور اس کے آس پاس کلکٹریٹ کمپلیکس بعد میں تعمیر ہوا تھا۔


لکھنؤ کے شاہی امام اور اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرمین خالد رشید فرنگی محلی نے اس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں سرکاری زمینوں پر متعدد مندر بھی موجود ہیں، لیکن مسلمانوں نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو۔ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کے انہدام کو ’یوم سیاہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے آئین پر حملہ بتایا۔

مرادآباد میں بھی بغیر منظوری تعمیر کی شکایت کے بعد مقامی ترقیاتی اتھارٹی نے تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کے قریب واقع تقریباً 40 سال پرانی مصطفیٰ مسجد کو 8 ستمبر کو نوٹس جاری کیا۔ سنبھل کے چودھری سرائے علاقے کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد بھی اسی طرح کی شکایات اور ’متنازع جائیداد‘ کی تحقیقات کے مطالبے کے بعد جانچ کے دائرے میں آ گئی ہے۔

سنت کبیر نگر میں کمشنر کے حکم پر ایک مدرسہ منہدم کیا گیا، جبکہ وارانسی میں ریلوے اسٹیشن کی ازسرنو تعمیر کے دوران ایک مزار اور مسجد کو ہٹا دیا گیا۔ بہرائچ میں مہاراجہ سہیل دیو میڈیکل کالج کے کیمپس میں موجود 10 مزارات کو بھی سرکاری زمین سے متعلق دعوے کی بنیاد پر منہدم کر دیا گیا۔ دیوریا اور لکھنؤ میں بھی ایسے تنازعات سامنے آئے ہیں۔

جس رفتار اور وقت پر متنازع اسلامی ڈھانچوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، اس نے ان کے سیاسی مضمرات پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین ان کارروائیوں کو ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل اکثریتی آبادی کو متحد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مسلمان ان کارروائیوں کے خلاف زیادہ شدت سے احتجاج کرتے ہیں تو ’ہندو خطرے میں ہیں‘ کا سیاسی بیانیہ مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔


سہارنپور، شاملی، مظفرنگر، باغپت اور میرٹھ کو ملا کر تقریباً 26 اسمبلی نشستیں بنتی ہیں، جہاں مسلم ووٹر انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف سہارنپور میں سات اسمبلی حلقے ہیں اور یہ ضلع سیاسی اعتبار سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ ایسی کارروائیاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ’سخت گیر رہنما‘ کی شبیہ کو بھی مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔ بی جے پی کے لیے یہ صورت حال اس لحاظ سے فائدہ مند ہو سکتی ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں مسلمانوں کے حق میں متحد ہو کر احتجاج کرتی ہیں تو وہ ہندو ووٹروں کے ایک حصے سے مزید دور دکھائی دے سکتی ہیں۔

تاہم یہ تنازعات صرف زمین اور تجاوزات سے متعلق قانونی معاملات تک محدود رہیں گے یا آنے والے انتخابات میں ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنیں گے، اس کا انحصار آئندہ ہونے والے واقعات پر ہوگا۔ شکایت کنندگان کی شناخت، شکایات کا وقت، مقدمات کے نمٹانے کی رفتار اور انتخابات سے پہلے مذہبی ڈھانچوں کے انہدام میں دکھائی دینے والی عجلت ان کارروائیوں کے سیاسی پہلوؤں کے بارے میں سوالات ضرور پیدا کرتی ہے۔

اسپین نہیں، یہ گورکھپور کی بارش ہے

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کے یہ کہنے کے چند ہی ہفتے بعد کہ گورکھپور ’اسپین جیسا لگتا ہے‘، موسلا دھار بارش نے اس ’اسمارٹ سٹی‘ کے کئی علاقوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کلپس میں تارامندل علاقے میں رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ کے باہر گھٹنوں تک پانی دکھائی دیا۔ پانی میں چلتے ہوئے کچھ لوگ ’اسپین، اسپین‘ کے نعرے لگا کر روی کشن کا مذاق اڑاتے اور کہتے نظر آئے کہ گورکھپور تو ’وینس‘ جیسا لگ رہا ہے۔

اس معاملے میں روی کشن اور بی جے پی کے کونسلر وشواجیت ترپاٹھی کے درمیان گفتگو زیادہ دلچسپ ثابت ہوئی۔ وائرل آڈیو کلپ میں ترپاٹھی رکن پارلیمنٹ سے شکایت کرتے ہیں کہ ان علاقوں کے گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے جہاں اس سے پہلے کبھی اس طرح کی صورت حال پیدا نہیں ہوئی تھی۔ روی کشن انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جمع پانی نکالنے کے لیے پمپ لگائے گئے ہیں۔


کونسلر جواب دیتے ہیں، ’یہ جھوٹ ہے! کوئی پمپ نہیں لگایا گیا ہے۔‘ اس پر حیران روی کشن پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ’سماج وادی پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں؟‘ ترپاٹھی بھی پلٹ کر پوچھتے ہیں کہ کیا رکن پارلیمنٹ ’بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں؟‘ مذاق اور سیاسی نوک جھونک تو ختم ہو گئی، لیکن بارش جاری رہی۔ انتظامیہ کو نقصان کم کرنے کے لیے میدان میں اترنا پڑا۔ روی کشن نے اس صورت حال کے لیے غیر معمولی بارش کو ذمہ دار قرار دیا، جو ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود انہیں میئر اور میونسپل کمشنروں کے ساتھ پانی سے بھری گلیوں میں اتر کر ہنگامی پمپنگ آپریشن کی نگرانی کرنا پڑی۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے آبائی شہر گورکھپور میں مون سون نے ایک بنیادی سوال ضرور یاد دلا دیا: کسی شہر کو ’اسمارٹ‘ کہنے سے پہلے کیا یہ یقینی نہیں بنانا چاہیے کہ شہریوں کو عام بارش میں بھی سڑک پر چلنے کے لیے اپنے پاؤں پانی میں نہ ڈالنے پڑیں؟

جلد بازی میں بولنا، بعد میں پچھتانا!

نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے لکھنؤ میں ’بھارت ٹیکسی‘ کے افتتاح کے موقع پر نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ملازمت کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ’چوہا دوڑ‘ یعنی اندھی مسابقت سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے روزی روٹی کے لیے ای رکشا یا ٹیکسی چلانے کی تجویز دی۔ ایک وائرل ویڈیو میں انہیں کہتے سنا گیا کہ ’چار گھنٹے گاڑی چلاؤ اور دوپہر کا وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارو۔‘

خود روزگار کے لیے دیا گیا یہ بظاہر آسان مشورہ الٹا پڑ گیا۔ بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ای رکشا ڈرائیوروں نے بھی ناراضی ظاہر کی۔ ایک نوجوان نے سوال کیا کہ کیا ان کی نظر میں روزگار محض شوق کا معاملہ ہے؟ ای رکشا ڈرائیوروں نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ خود چار گھنٹے ان کا رکشا چلا کر دیکھیں کہ اس سے کتنی آمدنی ہوتی ہے۔


حکومت کے سیاسی مخالفین تو اس بیان سے خوش تھے ہی، خود حکمراں جماعت کے بعض حلقوں میں بھی اسے مناسب نہیں سمجھا گیا۔ خاص طور پر اس لیے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے تین ہزار سے زیادہ افراد کو تقرری نامے دینے اور مزید ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کے فوراً بعد پاٹھک کا یہ مشورہ حکومت کے روزگار سے متعلق دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ای رکشا چلانے کا مشورہ ان کے اپنے بچوں کے لیے بھی قابل قبول ہوگا؟

سماج وادی پارٹی کے رہنما پشپیندر سروج نے ایکس پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ آج کے نوجوان ہی ملک چلائیں گے اور اگر نائب وزیر اعلیٰ کو رکشا چلانے کا اتنا شوق ہے تو وہ انہیں تحفے میں ایک رکشا بھیج سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھا کہ آخر نوجوان ہندوستانیوں سے اپنی امیدیں محدود کرنے کو کیوں کہا جا رہا ہے؟ جب سیاسی طبقے کے بااثر لوگ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلاتے ہیں تو عام نوجوانوں سے ای رکشا چلا کر مطمئن رہنے کی توقع کیوں کی جائے؟

اپوزیشن کے لیے یہ صورت حال انتخابات سے پہلے کسی سیاسی خزانے سے کم نہیں۔ برجیش پاٹھک کے لیے شاید افسوس کی بات یہ ہے کہ ممکن ہے انہوں نے روزگار اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن کی بات سمجھ کر یہ مشورہ دیا ہو، لیکن ان کے الفاظ نے ایک مختلف تاثر پیدا کر دیا۔

اس پورے واقعے سے سیاست دانوں کے لیے ایک سادہ سبق ضرور نکلتا ہے: تقریر کرنے سے پہلے ہوم ورک کرنا بھی ضروری ہے۔ اپنے بیانات کی تیاری، ماہرین سے مشورہ اور الفاظ کے ممکنہ سیاسی اثرات پر غور کیے بغیر بولنے سے بعض اوقات ایک معمولی جملہ بھی انتخابی موسم میں بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔