ستیہ نکیتن کا حادثہ اور ہندوستان کی لڑکھڑاتی اعلیٰ تعلیمی عمارت

ستیہ نکیتن حادثہ صرف غیر محفوظ عمارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ اعلیٰ تعلیم میں سرکاری سرمایہ کاری کی کمی، طلبہ کے لیے رہائش کے بحران اور بڑھتی تعلیمی عدم مساوات کا نتیجہ بھی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

- نونیت شرما اور انامیکا

ستیہ نکیتن کا حادثہ ان لوگوں کے سامنے کئی بے چین کر دینے والے سوال کھڑے کرتا ہے، جن کے ہاتھوں میں نظام کی باگ ڈور ہے—بشرطیکہ وہ ان سوالوں کا سامنا کرنے کی ہمت بھی کریں۔ 6 ستمبر کو پانچ منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے تعمیراتی مواد کے ناقص معیار، غیر مجاز تعمیرات اور دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مناسب ہاسٹل سہولتوں کی کمی سے متعلق پرانے مسائل ایک بار پھر مرکزِ توجہ بن گئے۔ حادثے کے دن اتوار تھا، جس کی وجہ سے ساؤتھ کیمپس کے آس پاس مہنگے پیئنگ گیسٹ (پی جی) رہائش گاہوں میں رہنے والے طلبہ کے لیے خطرہ مزید بڑھ گیا۔ اس حادثے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔

میڈیا اور اس کے ماہرین—جن میں ماہرِ نجوم سے لے کر ماہرِ تعمیرات تک شامل تھے—نے خوب شور مچایا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ غبار بیٹھتے ہی سب کچھ دوبارہ ’معمول‘ پر آ جائے گا؛ یعنی بے حسی اور لاتعلقی کے اسی معمول پر۔ تقریباً تین دہائیاں قبل اسکولی بچوں کو لے جانے والی ڈی ٹی سی بس دریائے یمنا میں جا گری تھی، جس میں 30 طلبہ ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت بھی اسی طرح کی بحث چھڑی تھی۔ ایک پینلسٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر بس نومبر کے بجائے اپریل یا مئی میں دریا میں گری ہوتی تو ہلاکتیں کم ہوتیں، کیونکہ اس وقت یمنا میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے۔

لیکن ان نام نہاد بحثوں میں کچھ بنیادی سوال مکمل طور پر غائب رہے۔ آخر طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں ’’بہترین‘‘ مواقع حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے بڑے شہروں کا رخ کیوں کرنا پڑتا ہے؟ ’’کمیونٹی کالج‘‘ کے تصور کا کیا ہوا؟ کوٹھاری کمیشن کی ایک انتہائی اہم سفارش—’’یکساں اسکولی نظام‘‘—جس کے تحت ہر علاقے کے تمام بچوں کو اپنے قریبی اسکول میں تعلیم حاصل کرنی تھی، بہت پہلے ردی کی ٹوکری میں ڈال دی گئی۔ آج بھی ہم ایسی اعلیٰ تعلیم کے منتظر ہیں جو غیر مرکزی، آسانی سے قابلِ رسائی اور سرکاری طور پر مالی اعانت یافتہ ہو۔

ان بحثوں میں ملک میں اعلیٰ تعلیم کی مالی اعانت کے سوال کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ تعلیم کے لیے سرکاری بجٹ میں مسلسل کمی کا براہِ راست اثر کلاس رومز، ہاسٹل، لیبارٹریوں، لائبریریوں اور دیگر بنیادی سہولتوں پر پڑتا ہے۔ مرکزی بجٹ 2024-25 اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے لیے مالی مختص رقم 2023-24 کے نظرثانی شدہ تخمینے میں 6,409 کروڑ سے گھٹا کر 2024-25 میں صرف 2,500 کروڑ کر دی گئی، یعنی تقریباً 61 فیصد کی زبردست کمی۔ اعلیٰ تعلیم کے مجموعی بجٹ میں بھی گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں 9,600 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی کی گئی۔


اعلیٰ تعلیم میں سرکاری سرمایہ کاری میں ہر کمی کا براہِ راست اثر زمین پر نظر آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے ہاسٹل کم بنیں گے، موجودہ عمارتوں کی دیکھ بھال خراب ہوگی اور بڑھتی ہوئی طلبہ تعداد کو جگہ دینے کی صلاحیت سکڑتی جائے گی۔ جب یونیورسٹیاں طلبہ کو ہاسٹل فراہم نہیں کر پاتیں تو انہیں پیئنگ گیسٹ رہائش، کرائے کے کمروں یا عارضی اور غیر محفوظ رہائش گاہوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

یوں طلبہ کی رہائش کی ذمہ داری ایک ایسے نجی بازار کے حوالے ہو جاتی ہے جو اکثر حفاظت کے بجائے منافع کو ترجیح دیتا ہے۔ سستے رہائشی مقامات کی ضرورت خود تعلیمی نظام پیدا کرتا ہے، لیکن اس کی قیمت مکان مالکان اور بالآخر طلبہ سے وصول کی جاتی ہے۔ اضافی منزلیں تعمیر کر دی جاتی ہیں اور حفاظتی ضابطوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ ایک عمارت کیوں گری، بلکہ یہ بھی ہے کہ بجٹ کی کن ترجیحات نے ایسے حادثے کے لیے حالات پیدا کیے؟

قومی راجدھانی دہلی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے، جن میں تقریباً دو تہائی دوسرے علاقوں سے آتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے 91 کالجوں میں سے صرف 20 کالج ہاسٹل کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ وہاں 2.45 لاکھ سے زیادہ باقاعدہ طلبہ کے لیے بمشکل 7,000 ہاسٹل نشستیں دستیاب ہیں۔ مرانڈا ہاؤس اپنے 5,375 طلبہ میں سے صرف 370 کو ہاسٹل فراہم کر پاتا ہے، جبکہ شری وینکٹیشور کالج میں 4,600 طلبہ کے لیے محض 150 ہاسٹل نشستیں ہیں۔ رام لال آنند اور ستیہ وتی جیسے کالجوں میں تو ہاسٹل کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں۔

جب یونیورسٹی تمام طلبہ کو رہائش فراہم کرنے سے قاصر رہتی ہے تو بیرونِ شہر سے آنے والے طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ رہائش، نجی ہاسٹل یا کرائے کے کمرے ہی واحد راستے رہ جاتے ہیں۔ یہ محض ایک تکلیف یا سہولت کا مسئلہ نہیں، بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں پر عائد ہونے والا ایک اضافی معاشی بوجھ ہے۔ ’معیاری‘ تعلیم کی قیمت میں اب تعلیمی ادارے کے قریب رہنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے کا بھاری خرچ بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔


اسی لیے ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے متاثرہ طلبہ صرف عمارت مالکان اور بلدیاتی اداروں کے درمیان موجود بے قابو، بدنظمی پر مبنی اور مبینہ بدعنوان گٹھ جوڑ کا شکار نہیں ہوئے۔ وہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی غیر مساوی اور غیر متوازن ترقی کی بھی بھینٹ چڑھے ہیں۔ جو لوگ مالی وسائل رکھتے ہیں، وہ بہترین اداروں اور بہتر سہولتوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن جو ایسا نہیں کر سکتے اور ملک کے نظرانداز اور کم ترقی یافتہ علاقوں، مثلاً دیواس یا اوریا جیسے شہروں سے آتے ہیں، انہیں تنگ اور غیر محفوظ کمروں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اقتصادی اور ثقافتی سرمائے کے فوائد کو اکثر ’میرٹ‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو طالب علم اس زبان، اعتماد، ثقافتی سمجھ، سماجی روابط اور علمی پس منظر کے ساتھ آتا ہے جنہیں اشرافیائی ادارے اہمیت دیتے ہیں، اسے آسانی سے ’ذہین‘ اور ’قابل‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو طالب علم اس ثقافتی سرمائے سے محروم ہوتا ہے، اسے کم اہل، کم نفیس یا کم قابل سمجھا جاتا ہے—حالانکہ فرق اکثر صلاحیت کا نہیں بلکہ ان غیر مساوی حالات کا ہوتا ہے جن میں اس صلاحیت کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

یوں جس چیز کو ’میرٹ‘ کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، وہ اکثر مراعات کے جمع شدہ فائدے کے سوا کچھ نہیں ہوتی، جسے بعد میں ذاتی کامیابی کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ اقتصادی اور ثقافتی سرمائے کی یہی غیر مساوی تقسیم اعلیٰ تعلیم کے اندر بھی ذات پات جیسی ایک درجہ بندی پیدا کرتی ہے۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور مرکزی یونیورسٹیاں اعلیٰ طبقے کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں، جبکہ ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو جو کچھ بچ جاتا ہے اسی پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت اعلیٰ تعلیم میں یہ متوازی نظام کیوں پیدا کر رہی ہے؟ وہ اپنے ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نظرانداز کیوں کر رہی ہے؟ کیا اس کا مقصد انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا ہے یا غیر ملکی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں اپنے کیمپس قائم کرنے کا راستہ دینا ہے، تاکہ وہ ’خاص گاہکوں‘ کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر ہوئی یا کسی بلدیاتی ادارے نے اس کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ ذمہ دار افراد کو یقیناً جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے، لیکن مسئلے کو صرف یہیں تک محدود رکھنا ایک بنیادی طور پر ساختی مسئلے کو محض چند افراد کی غلطی بنا دینا ہوگا۔


سوال صرف یہ نہیں کہ عمارت کیوں گری؟ سوال یہ بھی ہے کہ طلبہ کو وہاں رہنے پر مجبور کیوں ہونا پڑا؟ ریاستی یونیورسٹیوں کو اس حد تک خستہ حال کیوں ہونے دیا گیا کہ بہتر تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے آبائی شہر یا ریاست سے باہر جانا ہی واحد راستہ دکھائی دینے لگا؟

جو نظام طلبہ کو نقل مکانی، بھاری کرایہ ادا کرنے اور غیر محفوظ رہائش قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے، وہ تعلیم تک رسائی کو خود غیر مساوی بنا دیتا ہے۔ ستیہ نکیتن ان خوابوں کے انہدام کی علامت ہے جنہیں لے کر ہندوستان بھر کے نوجوان اعلیٰ تعلیمی نظام کا حصہ بننے کی امید رکھتے ہیں۔ یہ اس وعدے کے منہدم ہونے کی علامت بھی ہے کہ صلاحیت، امنگ اور محنت کی بنیاد پر علم کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھلے ہونے چاہئیں—خواہ کوئی بھی شخص کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

(مضمون نگار نوینیت شرما مرکزی یونیورسٹی ہماچل پردیش، دھرم شالہ میں تدریس سے وابستہ ہیں، جبکہ انامیکا آئی آئی ٹی بامبے-موناش یونیورسٹی، آسٹریلیا سے پی ایچ ڈی ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔