ایم پی ایس سی طلبہ کا احتجاج، پیر تک 70 ہزار مظاہرین کے پہنچنے کا روہت پوار کا دعویٰ، راہل گاندھی بھی کریں گے شرکت
روہت پوار نے کہا ہے کہ پونے میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے طلبہ کا احتجاج پیر تک بڑا رخ اختیار کر سکتا ہے اور 70 ہزار طلبہ جمع ہو سکتے ہیں۔ راہل گاندھی سمیت کئی رہنما طلبہ کی حمایت کریں گے

پونے: مہاراشٹر کے پونے میں ایم پی ایس سی طلبہ کا انشن اور ستیہ گرہ دوسرے روز مزید تیز ہوگیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج میں طلبہ کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر حکومت نے مطالبات پر توجہ نہیں دی تو پیر تک تقریباً 70 ہزار طلبہ اس تحریک میں شامل ہوسکتے ہیں۔
روہت پوار کے مطابق ہفتے کو پانچ طلبہ نے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اتوار کی صبح مزید دو طالبات بھی انشن میں شامل ہوگئیں۔ ان میں سے ایک مراٹھواڑہ اور دوسری پونے کی رہنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنی مرضی سے اس احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں اور بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
روہت پوار نے کہا کہ اگر حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا تو پیر کو احتجاج میں شامل ہونے والوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں اپوزیشن کے کئی بڑے رہنما بھی احتجاجی مقام پر پہنچ رہے ہیں۔
ان کے مطابق اتوار کی شام سنجے راؤت، ستیج پاٹل اور راج ٹھاکرے طلبہ سے ملاقات کے لیے احتجاجی مقام پر پہنچنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ ادھو ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے اور امیت ٹھاکرے سمیت دیگر رہنماؤں کی حمایت بھی طلبہ کو حاصل ہے۔ روہت پوار نے کہا کہ آنے والے دنوں میں راہل گاندھی اور این سی پی کے سربراہ شرد پوار بھی طلبہ کی حمایت کے لیے پونے پہنچ سکتے ہیں۔
راہل گاندھی کی جانب سے طلبہ کے احتجاج کی حمایت سے متعلق ایکس پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے روہت پوار نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتوار کی شام تک حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو راہل گاندھی کو طلبہ کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ ان کے مطابق لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے راہل گاندھی کی حمایت حکومت پر دباؤ بڑھانے میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
روہت پوار نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کا مقصد ریاست کو اہل اور اچھے افسر فراہم کرنا تھا، لیکن اب اس میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام سے بدعنوانی ختم کرنا اور طلبہ کو انصاف دلانا ضروری ہے۔
انہوں نے حالیہ انتخابی اصلاحات سے متعلق احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والی تحریک کے بعد ادھو ٹھاکرے اور سنجے راؤت بھی ایم پی ایس سی طلبہ کے احتجاج میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ روہت پوار نے دعویٰ کیا کہ یہ تحریک آنے والے دنوں میں مزید وسیع ہوگی اور طلبہ کو انصاف ملے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
