ابھشیک منو سنگھوی (دائیں) اور جئے رام رمیش (بائیں)، ویڈیو گریب
’’آج آئین کی فتح ہوئی ہے۔ مودی حکومت ہر دن آئین پر حملہ کرتی ہے، لیکن آج آئینی قدر اور التزامات جیت گئے ہیں۔ ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کا استقبال کرتے ہیں۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ہیمنت بسوا سرما اور ان کی بیوی پر سنگین الزامات عائد کرنے والے پارٹی لیڈر پون کھیڑا کو سپریم کورٹ سے پیشگی ضمانت ملنے کے بعد دیا ہے۔ جئے رام رمیش کے ساتھ پریس کانفرنس میں کانگریس کے شعبۂ قانون، حقوق انسانی و آر ٹی آئی چیئرمین ابھشیک منو سنگھوی بھی موجود تھے۔ انھوں نے تفصیل سے اس بارے میں اپنی بات میڈیا کے سامنے رکھی۔
Published: undefined
ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ’’آج ہم یہاں اپنی تعریف کرنے نہیں آئے ہیں۔ ہم یہاں کچھ بنیادی اصولوں کی بات کرنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ اہم باتیں یہ ہیں... جب معاملہ آزادی کا ہو تو نظامِ انصاف لوگوں کی محافظ ہوتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم قانون کے نیچے ہیں۔ جب ہم مذہب کی حفاظت کرتے ہیں تو مذہب ہماری حفاظت کرتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اس کہانی کامروپ مجسٹریٹ سے شروع ہوئی اور پھر تلنگانہ ہائی کورٹ ہوتے ہوئے سپریم کورٹ آئی۔ پھر معاملہ گواہاٹی ہائی کورٹ پہنچا اور آج سپریم کورٹ سے ایک فیصلہ آیا ہے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’جب بھی ایسے معاملوں میں ہتک عزتی کا الزام ہوتا ہے تو اس میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا گرفتاری کے بغیر پوچھ تاچھ نہیں ہو سکتی ہے؟ لیکن اس معاملہ میں تقریباً 60 پولیس والوں کو ایک شخص کے گھر پر بھیج دیا گیا، جس کا سماج اور سیاسی پارٹی میں بڑا نام ہے۔ کثیر تعداد میں پولیس بھیجنے کی وجہ صرف ڈرانا اور استحصال کرنا تھا۔‘‘
Published: undefined
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا ذکر کرتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے آسام کے وزیر اعلیٰ کا 3 صفحات میں ذکر کیا ہے۔ اس معاملہ میں کئی ایسی باتیں بھی ہیں جس کا ذکر نہ عدالت کر سکتی ہے اور نہ میں بول سکتا ہوں۔ ایسے میں آسام کے وزیر اعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ کیا ایک آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص کو یہ زیب دیتا ہے؟‘‘ ہتک عزتی معاملہ میں حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ آسام کے وزیر اعلیٰ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کریں اور معافی مانگیں۔‘‘
Published: undefined
ابھشیک منو سنگھوی نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے گزشتہ ماہ پون کھیڑا کے ذریعہ کی گئی پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’5 اپریل کی پریس کانفرنس کے 2 دن بعد آسام حکومت کی مشینری نے پوری طاقت کے ساتھ ایک این بی ڈبلیو عرضی ڈالی، جسے خارج کر دیا گیا تھا۔ جس فیصلہ کے خلاف ہم سپریم کورٹ گئے تھے، اس پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، اس میں ایسے التزامات کا ذکر ہے جو شکایت دہندہ، عرضی دہندہ اور جانچ ایجنسی نے نہیں کہی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں عبوری ضمانت کے معاملے میں جب تک قصور ثابت نہ ہو جائے، تب تک کسی کو قصوروار نہیں مانا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اس معاملہ میں کئی طرح کے پہلوؤں کو ڈال دیا گیا تاکہ یہ ہتک عزتی سے ایک الگ کیس بن جائے۔ اس میں 9 التزامات کا استعمال کیا گیا تھا، جسے ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ سبھی التزامات ضمانتی ہیں۔‘‘
Published: undefined
میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ’’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی ہے اور اگر سیاسی مہم کے دوران ایک سیاسی بیان کو اتنا بڑا ایشو بنایا جائے گا تو یہ آرٹیکل 19(1)(اے) کو خطرہ ہوگا۔‘‘ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’میں اس فیصلہ کے لیے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس فیصلے پر کانگریس پارٹی سمیت سبھی لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined