بنگلہ دیش: کیا محمد یونس نے اپنے ہی ملک کے بینک کو پہنچا دیا 100 کروڑ کا نقصان؟ تحقیقات شروع

’ٹائمز آف بنگلہ دیش‘ نے بینکوں کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق ریفرینڈم کی تشہیر کے لیے یونس حکومت نے بینکوں کے ’سی ایس آر فنڈ‘ سے 100 کروڑ ٹکا لے لیے۔

<div class="paragraphs"><p>محمد یونس (فائل)، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بنگلہ دیش کے سابق چیف ایڈوائزر محمد یونس مشکلات میں پھنستے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان پر 100 کروڑ ٹکا کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے اور بنگلہ دیش حکومت نے اس کی جانچ بھی شروع کر دی ہے۔ محمد یونس اگست 2024 سے فروری 2026 تک بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ رہے تھے۔ انہیں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا تھا، اور اب نئی حکومت تشکیل پاتے ہی ان کے لیے پریشانیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق بعض بینکوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں انتخابات کے دوران ہونے والے ریفرنڈم میں ان کے فنڈز کا استعمال کیا گیا۔ یہ رقوم یونس حکومت کے دباؤ میں فراہم کی گئیں اور حکومت نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے بینکوں پر دباؤ ڈالا۔ اس ریفرنڈم کا مقصد بنگلہ دیش کے آئین کو مضبوط کرنا تھا اور یونس خود اس مہم کی قیادت کر رہے تھے۔


دراصل ’ٹائمز آف بنگلہ دیش‘ نے بینکوں کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق ریفرنڈم کی تشہیر کے لیے یونس حکومت نے بینکوں کے ’سی ایس آر فنڈ‘ سے 100 کروڑ ٹکا حاصل کیے۔ ان رقوم کا استعمال مبینہ طور پر حکومت کو خوش کرنے اور ملک بھر میں ریفرنڈم کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے متعدد این جی اوز کی مدد لی گئی۔

بینکوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے دباؤ ڈال کر انہیں این جی اوز کو فنڈ دینے پر مجبور کیا، جس میں سرکاری قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہوئی اور اس کے نتیجے میں بینکوں کی مالی حالت متاثر ہوئی۔ بینکوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یونس حکومت نے ریفرنڈم کی تشہیر کے لیے 3 ایسے اداروں کو فنڈ دینے کے لیے کہا جو مشتبہ تھے۔ ان میں ’فاؤنڈیشن ڈیبیٹ فار ڈیموکریسی‘ نامی تنظیم کے پاس ضروری دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔


رپورٹ کے مطابق سرکاری دباؤ میں ایسوسی ایشن آف بینکرز بنگلہ دیش نے ’شُجان‘ نامی تنظیم کو 2.5 کروڑ ٹکا، ’ڈیبیٹ فار ڈیموکریسی‘ کو 21 لاکھ ٹکا اور ’ایس اے ڈی فاؤنڈیشن‘ کو 1 کروڑ ٹکا فراہم کیے۔ رپورٹ کے مطابق یونس حکومت نے ریفرنڈم کی تشہیر کے لیے مجموعی طور پر 142 کروڑ ٹکا خرچ کیے اور اس مہم کے لیے 6 وزارتوں کو متحرک کیا گیا تھا۔ تاہم ریفرنڈم نافذ ہونے کے باوجود بی این پی کی حکومت اسے عملی جامہ پہنانے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ طارق رحمان کی قیادت والی حکومت ریفرنڈم کے فیصلوں کو ایک ایک کر کے واپس لے رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔