یومیہ مزدور: استحکامِ معاشرہ اور ترقی کے ضامن... سید قمر عباس قنبر نقوی
اسلام میں مزدروں سے حسن سلوک، بروقت اُجرت، کام کے لئے مناسب وقت و جگہ اور ان کی عظمت و احترام کی سخت تاکید کی گئی ہے۔

یکم مئی عالمی سطح پر ’یومِ مزدور‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور اُن کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی تاریخی بنیاد 1886ء امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدور احتجاج سے وابستہ ہے، جب محنت کشوں نے 8 گھنٹے کے اوقاتِ کار کے مطالبے کے لیے ایک عظیم تحریک برپا کی اور ناقابلِ فراموش قربانیاں پیش کیں۔ بعد ازاں 1889ء میں انٹرنیشنل ورکرز کانگریس نے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔
ہندوستان میں یومِ مزدور کا آغاز 1923ء میں چنئی سے ہوا، اور آج یہ دن مزدوروں کے حقوق، مسائل اور فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، جبکہ کئی ممالک میں عام تعطیل بھی دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے 1948ء کے عالمی منشورِ حقوقِ انسانی کے مطابق ہر فرد کو منصفانہ حالاتِ کار، مناسب اُجرت اور روزگار کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ چنانچہ یومِ مزدور نہ صرف محنت کشوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کے قیام کے عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔
یکم مئی محنت، عظمت، قربانی اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں اُن گمنام ہاتھوں کی یاد دلاتا ہے جن کی محنت ہر ملک کے معاشی استحکام کا ستون ہے ۔ جن کی محنت سے دنیا کی ترقی اور خوشحالی قائم ہے، مگر افسوس کہ اکثر انہیں ان کا جائز مقام نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یومیہ مزدور ہر ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ تعمیرات، صنعت، زراعت، نقل و حمل... مختصراً ہر شعبہ حیات مزدور کے بغیر نامکمل ہے۔
ہمارے ملک میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوانین عملی طور پر نافذ بھی ہیں؟ کیا مزدور آج بھی کم اجرت، غیر محفوظ حالات، خوف زدہ ماحول اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار نہیں؟ ان حالات کے لیے محض حکومت ذمہ دار نہیں بلکہ ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہمارا اجتماعی فریضہ ہے کہ مزدوروں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ نہ صرف ان کے حقوق کا احترام کریں بلکہ ان کے لیے بہتر مواقع اور باعزت ماحول فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یومِ مزدور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مزدور کو اس کا پورا حق دیا جائے، کام کے اوقات منصفانہ ہوں اور معاشرتی سطح پر اسے عزت و وقار حاصل ہو۔ درحقیقت یہ دن ایک عہد، ایک ذمہ داری اور ایک اجتماعی شعور کا مظہر ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ مزدور کی عزت کریں گے، اس کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور اُس کے لیے آواز بھی بلند کریں گے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔
اسلام نے بھی مزدور کو نہایت معزز مقام عطا کیا ہے اور اس کی حیثیت کو کسی بھی طور کم تر نہیں سمجھا۔ دینِ اسلام اس بات کی سخت تاکید کرتا ہے کہ مزدور سے اس کی استطاعت سے بڑھ کر کام نہ لیا جائے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ حضرت پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مزدور کے کھردرے ہاتھ دیکھ کر فرمایا ’’یہ وہ ہاتھ ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں۔‘‘ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا ’’یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، جو تم کھاتے ہو وہی انہیں کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہی انہیں پہناؤ۔ اگر ان سے کوئی مشکل کام لو تو ان کی مدد بھی کرو۔‘‘
ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مزدور کو محض ایک ماتحت نہیں بلکہ ایک باعزت انسان اور بھائی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اسلام مزدور کی اُجرت کی بروقت ادائیگی اور اُن کے لیے کام کے بہتر حالات فراہم کرنے اور اجرت پہلے طے کرنے پر زور دیتا ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا ارشاد ہے ’’محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔‘‘ اسی طرح یہ اصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔
یہ تعلیمات اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام نے مزدور کے حقوق، عزت اور وقار کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ مختصراً یہ کہ مزدور معاشرے کا معمار اور ایک بنیادی ستون ہے، اور اس کی عزت و تکریم ہی ایک صالح اور مستحکم معاشرے کی ضمانت ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔