
پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)
ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس جیسے کورسز میں داخلہ دلانے والا ملک کا میڈیکل داخلہ امتحان ’نیٹ یو جی‘ پیپر لیک کے شبہ کے باعث 2024 کے بعد ایک بار پھر تنازعات کے گھیرے میں ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے انکشاف کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان کے پیپر لیک ہونے کا شک مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اب اس معاملے پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پرینکا گاندھی لکھتی ہیں کہ ’’ایک بار پھر سے نیٹ یوجی کے امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بی جے پی حکومت میں گزشتہ کئی سال سے امتحانات میں پھیلی بدعنوانی ملک کے نوجوانوں سے ان کا مستقبل چھین رہا ہے۔ اس مرتبہ بھی تقریباً 23 لاکھ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔‘‘
Published: undefined
پرینکا گاندھی ’ایکس‘ پوسٹ پر مزید لکھتی ہیں کہ ’’نیٹ جیسے امتحانات کے لیے بچے جی جان سے محنت کرتے ہیں۔ والدین اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیں تاکہ بچوں کو مستقبل بن سکے۔ لیکن ہر امتحان بدعنوانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں پیپر لیک کے خلاف لائے گئے مبینہ سخت قانون کا کیا فائدہ ہوا اگر زمینی سطح پر وہی بدعنوانی جاری ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعظم جی ملک کے نوجوانوں کے تئیں جوابدہ ہیں۔ نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنے کا یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ کو ملنے والے دستاویزات میں فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے 300 سے زیادہ سوالات شامل تھے۔ یہ سوال ہاتھ سے لکھے ہوئے بتائے جارہے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق ان میں سے تقریباً 150 سوالات براہ راست این ای ای ٹی کے امتحان میں پوچھے گئے تھے۔ چونکہ ہر سوال 4 نمبر کا ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر تقریباً 600 نمبر کے سوال میچ ہوگئے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق یہ ’کوشچن بینک‘ سب سے پہلے چورو کے ایک نوجوان نے بھیجا تھا جو فی الحال کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی پڑھائی کررہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہاں سے یہ مواد سیکر کے ایک پی جی آپریٹر کے پاس پہنچا اور پھر طلبہ میں تقسیم کیا گیا۔ بعد میں یہ بہت سے دوسرے طلبہ تک وائرل ہو گیا۔ ایس او جی اب پورے نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ مواد سب سے پہلے کس نے تیار کیا اور اسے پھیلانے میں کون کون لوگ شامل تھے۔ مشتبہ افراد کے سوشل میڈیا چیٹس، کال لاگز اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined