جیت کا فرق حذف کیے گئے ووٹوں سے کم ہونے پر نئی عرضی دائر کی جا سکتی ہے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی اور دیگر کو نئی عرضیاں دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے سے کم از کم 31 اسمبلی نشستوں کے نتائج متاثر ہوئے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران نام حذف کیے جانے اور اسمبلی انتخابی نتائج پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق معاملے میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کو تفصیلی عبوری عرضی دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا کہ کئی اسمبلی نشستوں پر جیت کا فرق ان ووٹروں کی تعداد سے کم تھا جن کی اپیلیں اب بھی اپیلیٹ ٹریبونل میں زیر التوا ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ مغربی بنگال میں جاری خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر سے متعلق عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران ترنمول کانگریس کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کلیان بنرجی نے عدالت کو بتایا کہ کم از کم 31 اسمبلی نشستوں پر ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کے درمیان جیت اور ہار کا فرق ان ووٹروں کی تعداد سے کم تھا جن کے نام ووٹر فہرست سے حذف کیے گئے اور جن کی اپیلیں اب بھی زیر التوا ہیں۔
کلیان بنرجی نے کہا کہ کئی حلقوں میں حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد اور ہار کا فرق تقریباً برابر ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اسمبلی نشست پر ترنمول کانگریس امیدوار صرف 863 ووٹوں سے ہارا، جبکہ اسی حلقے میں 5432 ایسے ووٹر تھے جن کے نام فہرست سے حذف کیے گئے تھے اور ان کی اپیلیں ابھی اپیلیٹ ٹریبونل میں زیر سماعت ہیں۔ ان ووٹروں کو اسمبلی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مجموعی ووٹوں کا فرق تقریباً 32 لاکھ تھا، جبکہ 35 لاکھ ایسے افراد ووٹ نہیں ڈال سکے جن کی اپیلیں زیر التوا رہیں۔ کلیان بنرجی نے جسٹس جوئے مالیا باگچی کے سابقہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے کہا تھا کہ اگر جیت کا فرق حذف کیے گئے ووٹوں سے کم ہوا تو عدالت مداخلت کرے گی۔ انہوں نے معاملے میں عدالتی جانچ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس پر بنچ نے کلیان بنرجی سے کہا کہ وہ تمام تفصیلات کے ساتھ عبوری عرضی دائر کریں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کا اثر انتخابی نتائج پر پڑا ہے تو اس کے لیے مناسب عرضی دائر کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال اس کی توجہ اس بات پر ہے کہ اپیلیٹ ٹریبونل میں زیر التوا معاملات کا جلد از جلد تصفیہ ہو۔
سماعت کے دوران ترنمول کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ رفتار سے اپیلیٹ ٹریبونل کو زیر التوا اپیلیں نمٹانے میں چار برس تک لگ سکتے ہیں اور اس دوران مزید انتخابات بھی ہو جائیں گے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہوئے وکیل داما شیشادری نے کہا کہ کسی بھی انتخابی نتیجے کو ہائی کورٹ میں انتخابی عرضی کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس پر کلیان بنرجی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ ایس آئی آر کے دوران نام حذف کیے جانے کو انتخابی عرضی دائر کرنے کی بنیاد تسلیم کیا جائے، تاہم چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت ایسا حکم کیسے جاری کر سکتی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
