
تصویر آئی اے این ایس
نئی دہلی کے پرگتی میدان میں جاری ’اے آئی انڈیا امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں ہائی سکیورٹی زون سے اے آئی فٹنس ویئر یبل چوری ہونے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اے آئی ویئر یبل ڈیوائس بات چیت کو ٹریک کرنے اور جذبات کا تجزیہ کرنے کے قابل ہے۔ یہ چوری بھی اس وقت ہوئی جب وزیراعظم نریندر مودی چوٹی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے لیے بھارت منڈپم میں پہنچے تھے جہاں دنیا بھر کے ماہرین کی موجود تھے۔ اس موقع پرعدیم المثال حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ چوری کے سلسلے میں دہلی پولیس کے تلک مارگ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
Published: undefined
دہلی پولیس کے ایک سینئرافسرنے بتایا کہ بنگلورو کے ایک اسٹارٹ اپ بانی نے الزام لگایا ہے کہ ان کی کمپنی کے اسٹال سے قیمتی اے آئی ویئر یبل ڈیوائس چوری ہو گئے ہیں۔ الزام ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے وہاں لگے اسٹال کو بھی خالی کرالیا تھا۔ کمپنی کے سی ای او اور شریک بانی دھننجے یادو نے بتایا کہ ان کی مصنوعات ایکسپو ایریا سے اس وقت غائب ہوئیں جب وہاں صرف سکیورٹی اہلکاروں کو ہی آنے جانے کی اجازت تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ہائی سکیورٹی زون میں رکھے گئے اے آئی ویئر یبل کیسے چوری ہوسکتے ہیں۔
Published: undefined
دھننجے یادو کی کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ امپیکٹ سمٹ کا پہلا دن ان کے لیے تکلیف دہ تھا۔ یادو نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں میں تال میل کا فقدان تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹال خالی کرارہے افسر سے انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا وہ اپنے اے آئی ویئر یبل ساتھ لے جائیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ دوسرے لوگ بھی اپنے لیپ ٹاپ اور دیگر سامان وہیں چھوڑ رہے ہیں۔ سکیورٹی اہلکار ان کا دھیا رکھیں گے لیکن جب وہ واپس آئے تو اسٹال سے اے آئی ویئر یبل غائب تھا۔
Published: undefined
اس موقع پر نئی دہلی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس دیوش کمار مہالا نے بتایا کہ اے آئی سمٹ میں ڈیوائس چوری معاملے میں تلک مارگ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور حقائق کی تصدیق کی جارہی ہے۔ ’امراجالا‘ کی رپورٹ کے مطابق اے آئی سمٹ کے دوران کافی بدنظمی دیکھی گئی۔ یوپی آئی سے پیمنٹ نہیں ہورہا ہے، انٹرنیٹ نہیں چل رہا ہےاور باہر لوگوں کی لمبی لائنیں لگ رہی ہیں۔ دھکا مکی ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آنے جانے کے لیے سائنیج نہیں لگائے گئے ہیں۔ وی آئی پی کے آنے سے لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined