آئی پیک چھاپہ ماری معاملہ: ای ڈی کی درخواست پر سپریم کورٹ آج کرے گا سماعت
پریم کورٹ آج ای ڈی کی اس درخواست پر سماعت کرے گا جس میں ممتا بنرجی اور مغربی بنگال حکام پر آئی پیک دفتر پر چھاپے کے دوران مداخلت کا الزام ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ بدھ کے روز یعنی آج انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی اس درخواست پر سماعت کرے گا جس میں مغربی بنگال حکومت اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر کولکاتا میں انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی پیک) کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپہ ماری کے دوران مداخلت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کاز لسٹ کے مطابق معاملہ 18 فروری کو جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ کے روبرو پیش ہوگا۔ گزشتہ ہفتے سینئر وکیل کپل سبل کی علالت کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی تھی۔ ای ڈی کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ سبل پیش نہیں ہو سکیں گے، جس پر بنچ نے معاملہ 18 فروری تک کے لیے ٹال دیا تھا۔
ای ڈی نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور کولکاتا پولیس کمشنر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ ایجنسی کا مؤقف ہے کہ تلاشی کے دوران اس کے قانونی فرائض میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
اپنے جواب میں ممتا بنرجی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 8 جنوری 2026 کو پرتیک جین کی لاؤڈن اسٹریٹ واقع رہائش گاہ اور بیدھان نگر میں آئی پیک کے دفتر اس اطلاع پر گئیں کہ تلاشی کے دوران ترنمول کانگریس کا حساس سیاسی ڈیٹا دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ڈیٹا آئندہ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی حکام نے پارٹی کا ڈیٹا اور متعلقہ آلات لے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ تلاشی میں خلل ڈالے بغیر واپس آ گئیں۔
حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ای ڈی کی پنچنامہ رپورٹ کے مطابق تلاشی پرامن اور منظم انداز میں جاری رہی۔ وزیر اعلیٰ نے دلیل دی ہے کہ مبینہ کوئلہ گھوٹالہ میں نہ ترنمول کانگریس اور نہ اس کے عہدیداران ملزم ہیں، اس لیے ای ڈی کو پارٹی کے خفیہ ڈیٹا پر دعویٰ کا حق حاصل نہیں۔
اس سے قبل 15 جنوری کو سپریم کورٹ نے مغربی بنگال پولیس کی جانب سے ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی تھی اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔