ایران سے مذاکرات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بڑی فوجی نقل و حرکت، 50 لڑاکا طیارے تعینات
امریکہ نے ایران سے جاری جوہری مذاکرات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں 50 سے زائد لڑاکا طیارے اور جنگی بحری جہاز تعینات کر دیے۔ حکام کے مطابق بات چیت جاری ہے مگر کئی اہم نکات پر اختلاف برقرار ہے

امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 سے زائد جدید لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں فضائی اور بحری طاقت کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
آزاد ذرائع اور فوجی پروازوں پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق ایف۔22، ایف۔35 اور ایف۔16 طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ان کے ساتھ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی روانہ کیے گئے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکہ طویل المدتی فوجی آپریشن کی صلاحیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم کئی اہم امور پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران اب تک صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طے کردہ بنیادی شرائط کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے چند سرخ لکیریں واضح کی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مذاکرات میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی شرکت بھی شامل رہی۔ ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر ایک نیا مسودہ پیش کر سکتے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوشش ہوگا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو سنجیدہ اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیش رفت سابقہ نشست کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم کسی حتمی معاہدے میں وقت لگ سکتا ہے۔
ادھر امریکہ نے اپنے طیارہ بردار جہازوں کے جنگی گروپ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ اقدام خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔