
کانگریس نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹمنٹ کے بعد جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کی شرح نمو کے جو اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں وہ گمراہ کن ہیں۔ پارٹی نے زور دے کر کہا کہ معیشت کا ’ہم دو ہمارے دو‘ والا انداز نجی سرمایہ کاری کی ترقی کی حوصلہ شکنی کرے گا، جہاں ’مارکیٹ لیڈر‘ جدت کے بجائے سرکاری تحفظ سے ابھرتے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ خوف (فیئر)، دھوکہ دہی (ڈسیپشن) اور ڈرانے دھمکانے (انٹیمیڈیشن) یعنی ایف ڈی آئی کا ماحول بھی کاروباری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’پرائس ڈفلیٹر (افراط زر کا پیمانہ) خود ہی بہت کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ شرح نمو مصنوعی طور پر بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کم پرائس ڈفلیٹر مودی حکومت کو بھلے ہی خوشی دیں، لیکن وہ حقیقت میں صارفین کی کم مانگ کا نتیجہ ہے، جو پیرامیڈ کے بالکل اوپری حصے کو چھوڑ کر دیگر تمام آمدنی کی سطحوں پر جمود کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔‘‘
Published: undefined
جے رام رمیش نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کارپوریٹ انڈیا نقد رقم سے بھرا پڑا ہے، منافع ریکارڈ سطح پر ہیں اور قرض ریکارڈ نچلی سطح پر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آنے والے بجٹ کو جس سوال کا بے باکی سے جواب دینا ہوگا، کمپنیاں صلاحیت میں توسیع میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کے انتظام پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرمایہ کاری ماحول کو صاف طور پر ایک ’بوسٹر ڈوز‘ کی ضرورت ہے۔ ٹیکس میں کٹوتیوں کی پوری سیریز مانگ کو تیز کرنے میں واضح طور پر ناکام رہی ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ بدقسمتی سے اس کا جواب صرف مالیاتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ مودی حکومت کے سیاسی-معاشی ماڈل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ’ایکس‘ پر اخبار میں شائع ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’مضبوط بیلنس شیٹ‘ اعلیٰ سرمایہ کاری کو فروغ نہیں دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس نے حکومت پر یہ حملہ یکم فروری کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ سے پہلے کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined