قومی خبریں

تمل ناڈو حکومت نے تقریباً 13 سال بعد آٹو رکشہ کے کرایوں میں کی ترمیم، اب ابتدائی کرایہ 50 روپے ہوگا

نئے ضابطے کے مطابق ابتدائی 1.8 کلومیٹر کے سفر کے لیے 50 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد ہر اضافی کلومیٹر کے لیے 25 روپے کرایہ دینا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p> آٹو، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

آٹو، تصویر/آئی اے این ایس

 

تمل ناڈو حکومت نے ریاست میں تقریباً 13 سال بعد آٹو رکشہ کے کرایے میں ترمیم کی ہے۔ آٹو ڈرائیوروں کی جانب سے طویل عرصے سے کرایے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔ نئے ضابطے کے مطابق اب ابتدائی 1.8 کلومیٹر کے سفر کے لیے 50 روپے ادا کرنے ہوں گے، جبکہ اس کے بعد ہر اضافی کلومیٹر کے لیے 25 روپے کرایہ ہوگا جو پہلے 12 روپے فی کلومیٹر تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2013 میں کرایے کی شرحیں مقرر کی گئی تھیں۔

حکومت نے گھاٹ والے علاقوں کے لیے الگ کرایے مقرر کیے ہیں۔ یہاں ابتدائی سفر کے لیے کم از کم کرایہ 60 روپے ہوگا۔ اس کے بعد ہر اضافی کلومیٹر کے لیے 30 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ یعنی گھاٹ والے علاقوں میں آٹو سے سفر کرنا عام علاقوں کے مقابلے میں مہنگا ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر آٹو ڈرائیور کو مسافر کے انتظار میں رکنا پڑتا ہے تو اس کے لیے 1 روپے فی منٹ کے حساب سے چارج مقرر کیا گیا ہے۔ نئی شرحوں کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان آٹو سے سفر کرنے پر عام کرایے کا ڈیڑھ گنا ادا کرنا ہوگا۔ یعنی اس دوران سفر کرنے والے مسافروں کو دن کے مقابلے میں زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔

واضح رہے کہ آٹو ڈرائیور طویل عرصے سے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں، انشورنس پریمیم اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ایپ پر مبنی کیب سروسز اور بائیک ٹیکسیوں سے ملنے والے مقابلے نے بھی ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ آٹو ڈرائیوروں کی تنظیموں نے ابتدائی 1.5 کلومیٹر کے لیے 60 روپے اور اس کے بعد ہر کلومیٹر کے لیے 30 روپے کرایہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب صارفین کی تنظیموں نے ابتدائی 1.8 یا 2 کلومیٹر کے لیے 50 روپے کرایہ مقرر کرنے کی تجویز دی تھی۔ ٹرانسپورٹ کے وزیر اے وجے تملن پارتھیبن نے کچھ دن قبل آٹو ڈرائیوروں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دیوالی سے قبل کرایے میں ترمیم کی جائے گی۔ اب حکومت نے نئی شرحوں کا اعلان کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔